اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] کی کمیٹی برائے امور داخلہ نے گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں انتہا پسند یہودیوں کو مسجد اقصٰی میں داخل ہونے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق عبادات کی ادائیگی سمیت ہر غیرقانونی سرگرمیوں کی اجازت دے دی ہے۔
مسجد اقصٰی کی تعمیر و مرمت کی ذمہ دار تنظیم”اقصٰی فاؤنڈیشن و ٹرسٹ” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی کنیسٹ کی داخلہ کمیٹی کا اجلاس سوموار کو ہوا، جس میں بارہ دیگر شعبوں کے حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہودیوں کو مسجد اقصٰی میں داخل ہونے اور وہاں اپنے مذہب کے مطابق [نماز] عبادت کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہودی عید العرش کے موقع پر تورات اٹھائے ہوئے مسجد اقصیٰ میں جائیں گے اور دن بھر وہاں عبادت کریں گے۔ انہیں ہرممکن تحفظ فراہم کرنا پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہو گی۔
خیال رہے کہ اسرائیل میں یہودی 23 اور 24 ستمبر کو”عید العرش” کی تقریبات منا رہے ہیں۔ اس عید کی عبادت کی آڑ میں یہودی مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر اس کے تقدس کو پامال کرنے کے مذموم عزائم تیار کر رہے ہیں۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن نے صہیونی کنیسٹ کی داخلہ کمیٹی کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہودیوں کو قبلہ اول میں کھلے عام داخل ہونے کی اجازت دے کر ایک نئی جنگ چھیڑنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ مسجد اقصٰی میں عبادت کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے، جس پر یہودیوں سمیت کسی بھی دوسرے مذہب کا کوئی حق نہیں ہے۔
تنظیم نے یہودیوں کی مسجداقصٰی کے خلاف بڑھتی سرگرمیوں بالخصوص صہیونی کنیسٹ کے فیصلے کے رد عمل میں عالم اسلام سے ٹھوس اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالم اسلام بالخصوص مسلمان اور عرب ممالک کی مجرمانہ غفلت اور دانستہ خاموشی یہودیوں کو قبلہ اول کے خلاف اس طرح کی سازشوں کا موقع فراہم کر رہی ہے۔
