مقبوضہ بیت المقدس میں قائم اسرائیل کی ایک مرکزی عدالت نے بزرگ فلسطینی رہ نما اور اسلامی تحریک کے سربراہ الشیخ رائد صلاح کی چھ ماہ کے لیے شہر بدری کی سزا پر نظرثانی کرتے ہوئے اُنہیں دو ماہ کے لیے شہر سے باہر رہنے کا حکم دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق علامہ الشیخ صلاح کے خلاف ایک ہفتہ قبل اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے مقدمہ کا فیصلہ نمٹاتے ہوئے انہیں چھ ماہ کے لیے شہر بدری کی سزا کا حکم دیا تھا۔ ان کے خلاف مقدمہ کی کارروائی ان کی ایک تقریر کی بناء پرشروع کی گئی تھی جس میں انہوں نے علاقائی بحرانوں بالخصوص مصرمیں منتخب حکومت کے خاتمے میں اسرائیل کی مداخلت کی بات کی تھی۔
صہیونی پولیس نے انہیں حراست میں لے کرا ن کے خلاف تشدد پر اکسانےکے الزام میں مقدمہ قائم کر دیا تھا۔ مجسٹریٹ عدالت کے مطابق شیخ رائد صلاح کو چھ ماہ کے لیے مقبوضہ بیت المقدس سے کم سے کم 30 کلو میٹر دور اور 50 ہزار شیکل جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی ایک تنظیم”المیزان” کی جانب سے مجسٹریٹ کورٹ کا فیصلہ سینٹرل کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے کیس کی پہلی سماعت ہی کے موقع پر شیخ رائد صلاح کی شہر بدری کی سزا چھ سے کم کرکےدوماہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
درایں اثناء شیخ رائد صلاح کے وکیل محمد سلیمان اغباریہ نے اپیل کورٹ کے فیصلے کو”ناپسندیدہ” اور مقدمہ اورقانون کی روح کی منافی قراردیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپیل کورٹ کی جانب سے مجسٹریٹ عدالت کے ظالمانہ فیصلے کوتحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ شیخ رائد صلاح بے گناہ ہیں۔ ان کے خلاف ایسے کسی بھی مقدمہ کی کارروائی اورسزا کا کوئی جواز نہیں ہے۔
اسلامی تحریک کے ترجمان اور قانون دان زاھی نجیدات کا کہنا ہے کہ صہیونی عدالت کی جانب سے ایک شیخ رائد صلاح کی ایک گھنٹہ کے لیے شہر بدری کی سزا بھی ہوتی ہے تو یہ بھی ایک ظالمانہ اقدام تصور کیا جائے گا۔ عدالت کے فیصلےسے ثابت ہوتا ہے کہ صہیونی عدلیہ فلسطینی سیاست دانوں سے سیاسی انتقام لینے کی سازش کی مرتکب ہو رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
