مصری سیکیورٹی حکام نے محصور فلسطینی شہرغزہ کی پٹی کی واحد بین الاقوامی گذرگاہ”رفح” کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک دوبارہ بند کردیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کئی روز کی بندش کے بعد رفح بارڈر کوابھی کھولا ہی گیا تھا۔ صرف ایک مسافر بس مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی میں داخل ہوئی تھی کہ گذرگاہ کو دوبارہ بند کردیا گیا۔
غزہ میں بارڈر امور کے ڈائریکٹر ماہر ابوصبحہ نے بتایا کہ ہفتے کے روز گذرگاہ کے دونوں جانب کھڑی گاڑیوں اور مسافر بسوں کو اپنی اپنی منزل پر پہنچانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے گذرگاہ کھولی گئی تھی۔ ابھی مصر کی جانب سے صرف ایک مسافر بس سرحد عبور کرکے غزہ میں داخل ہوئی تھی کی مصری حکام نے دیگر گاڑیوں کو پیچھے ہٹا کر کراسنگ پوائنٹ کے پھاٹک دوبارہ بند کردیے۔
ابو صبحہ کا کہنا تھا کہ مصری سیکیورٹی حکام کی جانب سے انہیں صرف اتنا بتایا گیا کہ سیکیورٹی کی وجوہات کی بناء پر گاڑیوں کی آمدو رفت روکی جا رہی ہے۔ ہماری جانب سے مصری حکام سے یہ پوچھا گیا کہ آیا اتوار بارڈر کو کب کھولا جائے گا۔ آیا یہ آج اتوار کے روز یا آئندہ ایام میں کھلی رہے گی یا نہیں۔ فلسطینی عہدیدار نے مصری حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ گذرگاہ کو زیادہ دیر کے لیے بند نہ رکھیں کیونکہ سرحد کے دونوں جانب بڑی تعداد میں مسافر ابھی تک موجود ہیں اور مال بردار گاڑیاں بھی سرحد کھلنے کے انتظار میں کھڑی ہیں۔
خیال رہے کہ مصر میں تین جولائی کو فوجی حکومت کے قیام کے بعد غزہ کی رفح گذرگاہ کو بند کردیا گیا تھا۔ اب زیادہ دیر یہ گذرگاہ بند ہی رہتی ہے، جس کے باعث اسرائیلی محاصرے میں گھرے فلسطینیوں کو سخت نوعیت کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
