یونان میں یہودیوں سے بڑھتی نفرت پر اسرائیلی پارلیمنٹ [کنیسٹ] نے گہری تشویش اورغم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے قبرصی عیسائی پادریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہودیوں کے خلاف منفی سوچ ختم کرانے اور پروپیگنڈہ بند کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ کے اسپیکر”یولی ایڈلچائن” نے قبرص کے چیف پادری”کریسٹوسوموس دوم” کے نام ایک خط بھیجا ہے، جس میں ان سے یونان میں یہود مخالف نظریات کے تیزی سے پھلنے پھولنے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ادھر بدھ کے روز اسرائیلی اسپیکر نے قبرص کے عیسائی مذہبی پیشواؤں کے ایک وفد سےملاقات میں بھی یونان میں یہودیوں کے خلاف نفرت کا معاملہ اٹھایا۔ مسٹراڈلچائن کا کہنا تھا کہ مذہب کی بنیاد پرکسی قوم سے نفرت اور تشدد کو ہوا دینے کا کوئٓی جواز نہیں ہے۔ یونانی حکام کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاں یہودیوں سےنفرت پھیلانے والے مظاہرکی روک تھام میں ٹھوس کردار ادا کریں۔
خیال رہے کہ کچھ عرصے سے عالمی میڈیا میں آنے والی رپورٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں یہودیوں سے نفرت میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت کو بھی عالمی سطح پر ہونے والی نفرت کا بھرپور ادراک ہے اوراس کی جانب سے دنیا کے مختلف فورمز پر اس کا اظہار بھی ہورہا ہے تاہم اس کے باوجود یہودیوں سے نفرت میں کمی نہیں لائی جا سکی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
