فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت[حماس] کی حکومت نے شام سمیت کسی بھی عرب اور مسلمان ملک میں غیرملکی فوجی مداخلت کی سخت مخالف کی ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ عالم اسلام کو اپنے اندرونی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ کسی استبدادی طاقت کو اپنی جارحیت کے مظاہرے کا موقع نہ مل سکے۔حماس کی حکومت کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا شام پر حملے کی تیاریاں کر رہا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ حکومت آزادی اور جمہوریت کے لیے جدو جہد کرنے والی اقوام کے ساتھ ہے، لیکن کسی ملک میں غیر ملکی فوج کی مداخلت قابل قبول نہیں ہے۔
بیان میں عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے خلاف جاری صہیونی سازشوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے۔ غزہ حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے حملے کی راہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ بیت المقدس کو یہودیت میں تبدیل کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ صہیونی دشمن کی ان سازشوں کی روک تھام کے لیے عرب اور مسلمان ممالک ٹھوس اور فوری اقدامات کریں۔
حماس کی حکومت نے مقبوضہ فلسطینی شہروں میں سرگرم تنظیم” اسلامی تحریک” کے سربراہ اور بزرگ مذہبی و سیاسی رہ نما الشیخ رائد صلاح کی صہیونی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کی بھی شدید مذمت کی۔ بیان میں اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ شیخ رائد صلاح کو فوری طورپر رہا کرے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شیخ رائدصلاح کو قبلہ اول کے تحفظ کے لیے کام کرنے اور یہودیوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کی سزا دی گئی ہے۔ انہوں نے آج بدھ کو یہودیوں کی قبلہ اول پریلغار کےخلاف فلسطین بھر میں "نفیرعام” کی کال دی تھی۔ اسرائیل نے "نفیر عام” کو ناکام بنانے کے لیے شیخ صلاح کوحراست میں لیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
