انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم نے محصور فلسطینی شہرغزہ کی پٹی کی سرحد پر بنائی گئی سرنگوں کو بند کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل نوازی قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ چاروں اطراف سے محصور غزہ کی پٹی کے مفلوک الحال عوام ان سرنگوں کے ذریعے آنے والی اشیائے خوردونوش پر زندگی گذار رہے ہیں۔ مصری حکام نے سرنگوں کا کوئی متبادل راستہ فراہم کرنے کے بجائے سرنگیں بند کر کے غزہ کی ناکہ بندی میں اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "مرکز برائے تحفظ انسانی حقوق” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم یہ مانتے ہیں کہ سرنگوں کے راستے سامان کی ترسیل اور منتقلی کوئی مثالی راستہ نہیں ہے، لیکن موجودہ سخت ترین حالات میں اہالیان غزہ کی زندگی کا دار و مدار انہی سرنگوں سے پہنچنے والے سامان پر ہے۔ اسرائٓیل کی جانب سے مسلط معاشی پابندیوں اور عالمی برادری کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں غزہ کے عوام نے یہ راستہ مجبورا اختیار کیا ہے۔ مصراپنے زمینی راستے اہالیان غزہ کے لیے کھول دے تو اُنہیں سرنگیں استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ مصرمیں سیاسی تبدیلی کے بعد غزہ کی پٹی کے محصورین کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ مشکلات اس وقت اور بھی بڑھ گئیں جب مصری سیکیورٹی فورسز نے غزہ کی پٹی اور مصرکی سرحد کے درمیان آرپار آمد ورفت کے لیے بنائی گئی فلسطینیوں کی سرنگیں بھی بند کر دیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مصری فوج نے گذشتہ دو ماہ سے غزہ سرحد پر بنائی گئی سرنگیں تباہ کرنے کا ایک بڑا آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ جب تک ان سرنگوں کا متبادل راستہ فراہم نہیں کیا جاتا انہیں مسمار کرنا ظلم ہے۔ اگر یہ راستہ بھی بند ہو گیا تو غزہ کی پٹی کی ڈیڑھ ملین سے زائد آبادی کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل سمیت بعض قوتوں کو مصر کے اس اقدام سے خوشی ہو گی اور وہ اس کی کھل کرحمایت بھی کریں گے مگر جہاں تک انسانی حقوق کا معاملہ ہے تو دنیا کا کوئی زندہ ضمیر انسان اس ظلم کو قبول نہیں کر سکتا ہے۔ غزہ کے شہریوں پر ایک ظلم پہلے اسرائیل کی جانب سے مسلط ہے اور مصربھی اس میں شامل ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی شہرغزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیل نے سنہ 2006ء میں معاشی پابندیاں عائد کرتے ہوئے مغربی کنارے اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر شہروں سے ملانے والے تمام راستے بند کر دیے تھے۔ یہ پابندیاں آج ساتویں سال میں بھی جاری ہیں۔ غزہ کے شہریوں کا گذر بسر صرف شہر کی مصرسے ملحقہ سرحد پر بنائی گئی سرنگوں پر ہوتا ہے جن کے راستے فلسطینی اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اشیائے خوردونوش غزہ منتقل کرتے ہیں۔ مصرکی موجودہ نگراں حکومت نے غزہ کی سرحد پر سختیاں مزید بڑھا دی ہیں جن کے باعث شہریوں کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
