مقبوضہ فلسطین کے جنوب میں اسرائیل کے مبینہ ایٹمی پلانٹ” ڈیمونا” سے خارج ہونے والی تابکاری شعاعوں سے علاقے کا پانی اور ہوا دونوں زہرآلود ہو چکے ہیں اور عالمی ماہرین نے اس پلانٹ کو مقامی فلسطینی آبادی کے لیے نہایت مہلک قرار دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ایٹمی جنگ کے متاثرین کی مدد کے لیے قائم ڈاکٹروں کی بین الاقوامی انجمن کے ایک مرکزی عہدیدار اور تنظیم کی فلسطینی برانچ کے چیئرمین ڈاکٹر محمود سعادہ نے "ڈیمونا” جوہری پلانٹ کے خطرات کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
ڈاکٹر سعادہ نے بتایا کہ کچھ ہی عرصہ قبل فن لینڈ کی ایک این جی او”DHF” نے ڈیمونا ایمٹی پلانٹ سے نکلنے والی تابکاری اور اس کے فلسطینی شہریوں، حیوانی اور نباتاتی زندگی پر اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ یہ تنظیم پورا سال اس تحقیقی مشن میں مصروف رہی ہے۔ جس کے بعد سالانہ رپورٹ میں تنظیم نے بتایا ہے کہ ڈیمونا ایمٹی پلانٹ سے نکلنے والی تابکار شعاعوں کے باعث جنوبی فلسطین بالخصوص جزیرہ نما نقب کا 95 فی صد پانی اور ہوا زہر آلود ہو چکے ہیں جو انسانی استعمال کے قابل نہیں رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایٹمی پلانٹ کے قریبی رہائشی علاقوں کے شہریوں کو وہاں سے دور دراز منتقل ہونا چاہیے کیونکہ وہاں کا پانی اور ہوا دونوں نا قابل استعمال ہیں اور زندگی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں جوہری توانائی اور تابکاری سے پھیلنے والے امراض کے علاج کے ماہرڈاکٹر نے بتایا کہ ڈیمونا پلانٹ سے نکلنے والی شعاعوں کے باعث علاقے میں انوکھی نوعیت کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ اب تک ایسے دسیوں کیسز سامنے آ چکے ہیں اور وہ علاج کے لیے شہریوں کو دوسرے ملکوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں کیونکہ جس نوعیت کے امراض پھیل رہے ہیں، فلسطینیوں کے پاس ان کا علاج نہیں ہے، البتہ اسرائیل کے بعض اسپتالوں میں ایسے موذی امراض کے علاج کی سہولت ہے لیکن صہیونی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کو وہاں علاج کرانے پر پابندیاں عائد ہیں۔
ڈاکٹرسعادہ نے بتایا کہ جزیرہ نما نقب اوراس کے مضافاتی علاقوں میں فلسطینیوں کی زندگی سخت خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ عالمی ماہرین اس پرکئی بار تشویش کا بھی اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت اس بات پرہے کہ آیا اسرائیلی حکومت کو جوہری پلانٹ کی تباہ کاری کا علم بھی ہے لیکن اس کے باوجود وہ یہودی آباد کاروں کو صحرائے نقب میں منقل کرنے یا انہیں وہاں پر رہائش اختیار کرنے پر کیوں کر اصرار کر رہی ہے۔
ڈاکٹر سعادہ نے بتایا کہ عالمی ماہرین نے علاقے میں پھیلنے والی امراض کے دوران بھیڑ بکریوں کےامراض کا بھی جائزہ لیا ہے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تابکاری کے نتیجے میں انسانی اور حیوانی زندگی برابر متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 2007ء میں ایک رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ جنوبی فلسطین میں بنائے گئے اس ایٹمی گھر سے نکلنے والی تابکار شعاعیں پورے مغربی کنارے میں بھی پھیل رہی ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے مضر اثرات شمالی مغربی کنارے میں الخلیل شہر تک پہنچ چکے ہیں۔ قلقیلیہ اور طولکرم بھی تابکاری سے متاثرہ علاقوں کی فہرست میں آ چکے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
