شمالی فلسطین کے ایک مقامی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ صہیونی حکومت نے سنہ 1948ء کے علاقوں میں فلسطینیوں کی اراضی ہتھیانے کا ایک انوکھا طریقہ اختیارکرتے ہوئے ان کی زندگیاں اور کاشتکاری کا پیشہ دونوں کو خطرے میں ڈال دیے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے شمالی فلسطین کی مقبوضہ بستیوں کفر کنا، طرعان اور زیریں الجلیل کے مشہد قصبے تک ایک گیس پائپ لائن بچھانا شروع کی ہے جو مقامی فلسطینیوں آبادی کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
مقامی انسانی حقوق کے کارکن رضوان حسن نے میڈیا کو بتایا کہ ہماری زمینوں سے گیس پائپ لائن کا گذارنا اب تک کا جدید ترین صہیونی حربہ ہے، جس کا مقصد مقامی فلسطینی آبادی کو وہاں سے نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس علاقے میںگیس پائپ لائن اس لیے بچھانا شروع کی ہے کیونکہ اس منصوبے کی آڑ میں صہیونی حکومت فلسطینیوں کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر با آسانی قبضہ کر لے گی۔
رضوان حسن کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ صہیونی حکومت گرین لائن کے شمال میں "فینیٹسا” نامی ایک پولٹری فارم تک گیس پہنچانا چاہتی ہے۔ فارم تک گیس پائپ لائن پہنچانے کے اور بھی راستے موجود ہیں لیکن صہیونی حکومت نے دانستہ طورپر پائپ لائن کفر کنا اور المشہد قصبوں کے درمیان بچھانا شروع کی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس پائپ لائن بچھانے کے نتیجے میں فلسطینی کسانوں کو اپنے کھیتوں میں کاشتکاری میں مشکلات کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا مگر اس گیس پائپ لائن کا مقامی آبادی پر تباہ کن اثر یہ مرتب ہو گا کہ اس سے ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
رضوان نے بتایا کہ گیس پائپ لائن سے متاثرہ قصبات پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے اسرائیل کی "پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ” کمیٹی کو 83 مختلف درخواستیں دیں اور اس علاقے میں گیس پائپ لائن بچھانے کے نقصانات سے آگاہ کیا لیکن کمیٹی نے ان کی ایک درخواست پربھی عمل درآمد نہیں کیا ہے، جس کے بعد وہ گیس پائپ لائن منصوبے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
