اسرائیلی فوج نے فلسطین کے تاریخی شہر مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں جلیل القدر پیغمبر صموئیل علیہ السلام کے نام سے موسوم قصبے صموئیل میں اُنہی کے نام سے تعمیر کی گئی تاریخی جامع مسجد صموئیل کوایک فوجی چوکی میں تبدیل کر دیا ہے۔
قابض یہودی فوجیوں نے مسجد کی چھت پر مورچے بنانے کے بعد ایک کنٹرول ٹاوربھی نصب کیا ہے جبکہ مسجد میں نصب ایک تاریخی قیمتی پتھرچوری کرنے کے بعد مسجد کےہال کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
فلسطین میں اسلامی تاریخی ورثے اور مساجد کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم "الاقصیٰ فاؤنڈیشن و اسلامی اوقاف” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے کئی ہفتوں سے شمالی بیت المقدس کی تاریخی مسجد صموئیل پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اہل محلہ کے پاس متبادل مسجد بھی نہیں ہے اور صہیونی فوجی اُنہیں مسجد صموئیل میں نماز کی ادائیگی کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ صہیونی فوجی مسجد اقصیٰ کو عارضی طور پر فوجی مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کے بہانے سے مستقل طور پر اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور مسجد کو ایک یہودی معبد میں تبدیل کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد میں مسلمانوں کا داخلہ تو منع ہے لیکن انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے لیے کھلی چھٹی ہے جنہوں نے وہاں پر ایک معبد تعمیر کر کے تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائیگی بھی شروع کر دی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے مسجد پر قبضہ کیا اور صہیونی محکمہ آثار قدیمہ نے مسجد میں نصب "حضرت صموئیل” علیہ السلام کا ایک یادگاری تاریخی اور نہایت گراں قیمت پتھر چوری کر لیا ہے۔ صہیونی محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے قیمتی یادگار کو وہاں سے نکالنے کے وقت بتایا گیا تھا کہ وہ مسجد کی دوبارہ تعمیرو مرمت کرنا چاہتے ہیں، جس کے لیے وہ یہ پتھر وہاں سے نکال رہے ہیں۔ دوبارہ تعمیر کے دوران پتھر کو پھر سے نصب کر دیا جائے گا۔ درحقیقت صہیونی حکام کا ایسا کوئی ارادہ نہیں وہ دراصل فلسطین کے تاریخی اسلامی ورثے پر ڈاکہ ڈالنا چاہتے ہیں۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن نے شمالی بیت المقدس میں مسجد میں یہودی فوجیوں کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتےہوئے مسلم ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد کو یہودی غنڈہ گردوں سے واگذار کرائیں، کیونکہ صموئیل قصبے میں وہاں کے فلسطینی باشندوں کی یہ واحد جامع مسجد ہے، جس کی اپنی ایک تاریخی حیثیت بھی ہے۔ جس پریہودی دانستہ طورپر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
