فلسطین کےتاریخی شہرمقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی قائم کردہ ضلعی حکومت نے کل اتوار کو مالیاتی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں شہرمیں مزید 1500 رہائشی مکانات کی تعمیر کے بجٹ پرغور کیا جائے گا۔
امکان ہے کہ صہیونی ضلعی مالیاتی کمیٹی کل ہی کے اجلاس میں ڈیڑھ ہزار رہائشی فلیٹس کی تعمیر کے لیے بجٹ منظور کر دے گی۔ یہ مکانات شمالی بیت المقدس میں پہلے سے قائم یہودی کالونیوں میں تعمیر کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے، جس پرعمل درآمد کے لیے بجٹ منظور کیا جا رہا ہے۔
فلسطین میں یہودی توسیع پسندی کے امور کے ماہر تجزیہ نگار احمد صب لبن نے میڈیا کو بتایا کہ صہیونی بلدیہ جن پندرہ سو مکانات کی تعمیر کے لیے بجٹ منظور کرنا چاہتی ہے وہ شمالی بیت المقدس کی کالونیوں” رمات شلومو”، شعفات قصبے میں قائم”راموت” اور دیگر کالونیوں میں بنائے جانے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شمال مشرقی بیت المقدس میں ڈیڑھ ہزار مکانات کی تعمیر کی منظور گذشتہ برس فروری میں صہیونی ضلعی حکومت اور وزارت داخلہ و آبادکاری کی جانب سے دی گئی تھی، تاہم اس منصوبے کے لیے بجٹ مختص نہیں کیا گیا تھا۔
احمد صب نے بتایا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے بیت المقدس میں یہ 1500 مکان تعمیر کرنے کا اعلان دراصل اسرائیل کے ایک انتقامی فیصے کا نتیجہ تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب اقوام متحدہ میں فلسطین کو ایک غیر مستقل رکن کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے فوری طور پر شہر میں ڈیڑھ ہزار مکانات کی تعمیر کی منظوری دے کر یہ ثابت کیا تھا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حل کا خواہاں نہیں ہے۔
قبل ازیں انہی کالونیوں میں سنہ 2010ء میں صہیونی حکومت نے کئی مکانات کی تعمیر کی منظوری اس وقت دی تھی جب امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ ان کے اس دورے کے موقع پر فلسطینیوں کو یہودیوں کے مکانات کے اعلان کا تحفہ دیا گیا تھا۔ گوکہ امریکی نائب صدر نے اس پر سخت برہمی کا بھی اظہار کیا مگر اسرائیل پراس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ صہیونی حکومت کی جانب سے پندرہ سو مکانات کی تعمیر کی آڑ میں شمالی بیت المقدس میں شعفاط اور بیت حنینا قصبوں کی سیکڑوں ایکڑ اراضی پر قبضے میں لے لی جائے گی۔ ان تعمیرات سے شعفاط کی کم سے کم 580 ایکڑ اراضی جبکہ بیت حنینا کی 400 ایکڑ اراضی فلسطینیوں سے چھین لی جائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
