فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کی حکومت کے ایک اہم عہدیدار نے کہا ہے کہ مصرسے ملحقہ بین الاقوامی راہداری پر صدر محمود عباس کے ایلچیوں کو تعینات کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ غزہ حکومت کی ماتحتی میں کام کریں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رفح بارڈر جو تین روز قبل جزیرہ سیناء میں چوبیس مصری فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بند ہے کو کھولنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس ضمن میں غزہ حکومت نے صدر محمود عباس کے نمائندوں کو بھی رفح بارڈر پر تعینات کرنے کی تجویز کی حمایت کی ہے، تاہم یہ شرط عائد کی ہے کہ ابو مازن کے نمائندے غزہ حکومت کے ماتحت ہوں گے۔
غزہ حکومت میں شامل نائب وزیراعظم اور وزیرمالیات انجینیر زیاد الظاظا نے نے کہا ہے کہ رفح شہر میں بری گذرگاہ پر فلسطینی اتھارٹی کے نمائندوں کی تعیناتی میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم یہ مندوبین غزہ حکومت کو جواب دہ ہوں گے۔
غزہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ رفح بارڈر پر آمدو رفت کے حوالےسے سنہ 2005ء سے قبل والا فارمولہ قابل عمل نہیں ہو گا، غزہ حکومت اسے پہلے ہی مسترد کر چکی ہے کیونکہ اس میں گذرگاہ پرغیرملکی مندوبین اسرائیلی حکومت کی نگرانی میں کام کر رہے تھے۔ ہم اسرائیلی نگرانی کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ رفح بارڈر کا تعلق غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان ہے، اسرائیل کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ البتہ عالمی مندوبین کی تعیناتی کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ غزہ اور مصری حکومت باہمی رضامندی ہی سے کریں گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
