اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کی شام لبنان سے مقبوضہ فلسطین کے علاقے الجلیل کے مغرب میں چار "کاتیوشا”میزائل داغے گئے ہیں، تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا، البتہ یہودی آباد کاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ "کاتیوشا” راکٹ حملے سرحد سے متصل لبنانی شہر صور سے کیے گئے ہیں۔ چار میں سے ایک راکٹ کو اسرائیل کے” میزائل شکن” نظام” آئرن ڈوم نے راستے ہی میں تباہ کر دیا ہے جبکہ تین راکٹ مغربی الجلیل میں خالی کھیتوں میں گرے ہیں جن سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
فوج کے داخلی محاذ نے راکٹ حملوں کے فوری بعد علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے یہودی آباد کاروں کو فوری طور پر محفوظ مقامات اور زیر زمین بنکروں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی تھی۔ راکٹ حملوں سے الجلیل، عکا اور نہاریا سمیت کئی دوسرے علاقوں میں آباد یہودی شہری سخت خوف کا شکار تھے اور فوج کی ہدایت پر وہ کئی گھنٹے زمین دوز بنکروں میں چلے گئے تھے۔
ریڈیو رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے صرف اتنا اشارہ کیا ہے کہ یہ راکٹ حملے لبنان کے شہر صور سے کیے گئے تھے تاہم کسی گروپ پر ان حملوں کی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ہے اور نہ ہی کسی تنظیم نے راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
بشکریہ:مرکزطلاعات فلسطین
