یورپی یونین کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیل کے غیرقانونی کارخانوں سے تیار کی جانے والی اشیاء کے بائیکاٹ پرصہیونی حکومت سیخ پا ہے۔
متنازعہ عرب علاقوں کی یہودی مصنوعات پر”بائیکاٹ” کا ٹیگ لگائے جانے کے یورپی فیصلے پر اسرائیلی وزارت خارجہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے فیصلے اسرائیل سے امتیازی سلوک کا مظہر ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان "یگال پالمور” نے تل ابیب میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مصنوعات سے متعلق یورپی یونین کا رویہ ناقابل فہم اور انتہائی افسوسناک ہے۔ اگر یورپی یونین متنازعہ علاقوں کی مصنوعات کو بائیکاٹ کی فہرست میں شامل کرنا چاہتی ہے تو ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ دنیا کے کئی دوسرے متنازعہ خطوں سے آنے والی اشیاء پر یہ قانون کیوں لاگو نہیں ہوتا۔ یورپی یونین کے حکام یا تو تمام متنازعہ علاقوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات اور اشیاء پر”بائیکاٹ” کی مہر لگائیں یا اسرائیلی کارخانوں کی مصنوعات کوبھی کھلے عام فروخت کی اجازت دیں۔
خیال رہے کہ چند ماہ پیشتر یورپی یونین نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کاخانوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یورپی یونین کے فیصلے کے مطابق اگلے مرحلے میں یورپی منڈیوں تک پہنچنےوالی ان متنازعہ مصنوعات پر”بائیکاٹ” کی مہر لگائی جائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
