فلسطین میں قابض یہودیوں کی مسلمانوں کے قبلہ اول پریلغاراور مقدس مقام کی بے حرمتی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہودی آباد کار مسلسل پانچویں روز بھی بڑی تعداد میں مسجد اقصٰی میں داخل ہوئے اور مسجد کی بے حرمتی کی۔ ادھر ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک ماہ میں 1440 یہودی شرپسندوں نے مسجد اقصیٰ کے بے حرمتی کا ارتکاب کیا ہے۔
مسجد اقصٰی کی دیکھ بھال پر مامور تنظیم”الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز اسرائیل کی داخلی سلامتی کے ادارے "شاباک” کے اہلکاروں کی سیکیورٹی میں یہوی شرپسندوں کے دو الگ الگ گروپ مسجد اقصٰی میں داخل ہوئے اور مسجد اقصٰی کی کئی گھنٹے تک بے حرمتی جاری رکھی۔ یہودی آباد کار مسجد اقصٰی میں شراب پیتے، غل غپاڑہ کرتے اور مسلمان نمازیوں کو چھیڑنے کی کوشش کرتے رہے۔
عینی شاہدین کے مطابق گذشتہ روز پچاس سے زائد یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا اور دیر تک قبلہ اول کی مسجد القبلی، المصلیٰ مروانی، قبۃ الصخرہ اور دیگر مقدس مقامات میں آزادانہ گشت کرتے رہے۔
صہیونی انٹیلی جنس اہلکاروں اور پولیس نے اُنہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کر رکھی تھی۔ یہودیوں کے گشت کے دوران مسجد میں موجود نمازیوں اور حفظ قرآن کریم میں مصروف طلباء میں خوف وہراس پھیل گیا۔
اقصٰی فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب یہودی آباد کار قبۃ الصخرہ میں داخل ہوئے تو مسجد میں موجود طلباء اور نمازیوں نے مزاحمت کی جس کے بعد یہودی آباد کاروں کو وہاں سے ناکام واپس آنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق جولائی کے مہینے میں مجموعی طورپر ڈیڑھ ہزار یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کا تقدس پامال کیا۔ ان کے علاوہ 18981 غیرملکی سیاح،195 صہیونی انٹیلی جنس اہلکاراور 132فوجی مسجد اقصٰی میں داخل ہوئے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کم سے کم 190 یہودی آباد کار قبلہ اول کی بے حرمتی کرچکےہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
