مسلمانوں کے تاریخی اور ثقافتی مرکزفلسطینی شہرمقبوضہ بیت المقدس کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم”الاقصیٰ فاؤنڈیشن” نے مسجد اقصیٰ کے پہلو میں ایک نئی یہودی کالونی تعمیر کرنے کی صہیونی سازش کا سراغ لگایا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم کو اطلاعات ملی ہیں کہ صہیونی حکومت مسجد اقصیٰ کی شمال مشرق کی سمت میں چند سو میٹر کے فاصلے پرایک نئی کالونی تعمیرکرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اسرائیلی وزیرتعمیرات وآباد کاری "اوری آرئیل” اس مجرمانہ اسکیم کی جلد تکمیل کے خواہاں ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومتی حلقوں میں ان دنوں قدیم بیت المقدس کی دیوار کے اندرونی احاطے میں مسجد اقصیٰ کے باب الساھرکے قریب برج القلق کے مقام پر21 مکانات اور ایک یہودی کنیسہ کی تعمیرغور و خوض جاری ہے۔ اسرائیلی وزراء جن میں وزیرآباد کاری بھی شامل ہیں جلد از جلد اس سازشی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے پہلو میں یہودی کالونی کی تعمیر کی اسکیم وزیر برائے آباد کاری مسٹر آرئیل نے پیش کی ہے اور وہی اس منصوبے کو جلد ازجلد منظوری کے بعد نافذ العمل دیکھنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صہیونی حکومت کی تازہ سازش کا مقصد کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ مسجد اقصیٰ کے گردو پیش میں یہودیوں کو آباد کرنا اسرائیل کی کوئی مجبوری نہیں لیکن ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں کے تاریخی ثقافتی مرکزپریہودیت کی یلغار کرکے شہرمقدس کا تاریخی اسلامی تشخص ختم کیاجاسکے۔
بیان میں بتایا گیا کہ مسجد اقصیٰ سے چند سو میٹرکے فاصلے پر یہودی کالونی کی تعمیر کسی بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس سازش سے بیت المقدس بالعموم اور مسجد اقصیٰ بالخصوص بڑے خطرات سےدوچار ہوجائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
