اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے پولیٹ بیورو کے نائب صدر ڈاکٹرموسیٰ ابو مرزوق نے ملک میں قومی مفاہمت کے لیے جاری مساعی کو ناکام بنانے کی تمام ذمہ داری صدر محمودعباس کی جماعت الفتح پرعائد کی ہے۔ ان کا کہنا ہے صدرعباس کی جماعت امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے نام نہاد امن مذاکرات کے جھانسے اور دباؤ میں آ کر قومی مفاہمت سے فرار اختیار کر رہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائیٹ”فیس بک” کے اپنے خصوصی صفحے پر جاری ایک بیان میں حماس رہ نما نے کہا کہ "اسرائیل کے ساتھ جب بھی مذاکرات ناکام ہوئے تو الفتح حماس پر برس پڑتی ہے اوراس کے بعد مفاہمت کی باتیں شروع کر دی جاتی ہیں۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ حماس نے کب قومی مفاہمت کے کسی معاہدے پرعمل درآمد سے فرار اختیار کیا۔ میں الفتح کی قیادت پر زور دوں گا کہ وہ ذرا ماضی کی طرف نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ مفاہمت کی ناکامی کس کی جانب سے ہوئی اور مشکل کس نے پیدا کی”۔
ڈاکٹر مرزوق کا مزید کہنا ہے کہ مفاہمتی عمل میں حالیہ تاخیری حربے اس وقت شروع ہوئے جب یہ خبریں آئیں کہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری اسرائیل۔ فلسطین امن بات چیت کی بحالی کے لیے جلد میدان میں اترنے والے ہیں۔ حماس چونکہ ان مذاکرات کو ایک فراڈ سمجھتی ہے۔ اس لیے انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتی۔ حماس کے نزدیک قومی مفاہمت سب سے اہم ہے اور فلسطینیوں کا اولین ہدف قومی مصالحت ہی ہونی چاہیے اور پارلیمانی اور صدارتی انتخابات مفاہمت کا نتیجہ ہونے چاہئیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
