امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی مساعی سے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کو فلسطین کی دیگرسیاسی جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے۔
فلسطین کی ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے رہ نماؤں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ نام نہاد امن مذاکرات فلسطینیوں کوامن فراہم کرنے کے بجائے ان کی سلامتی کے لیے تباہ کن ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے مرکزی رہ نما اورجماعت کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر صلاح الدین بردویل کا کہنا ہے کہ امریکی کوششوں سے فلسطین ۔ اسرائیل مذاکرات کی بحالی کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان مذاکرات میں بھی فلسطینیوں کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
خبر رساں ایجنسی”قدس پریس” سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر بردویل کا کہنا تھا کہ جب سے جان کیری نے امریکی وزارت خارجہ کا قلم دان سنبھالا ہے وہ فلسطین۔اسرائیل مذاکرات شروع کرانے کے لیے بے تاب ہیں۔ دوسرے الفاظ میں وہ فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل کے ساتھ سراب مذاکرات شروع کرنے اور صہیونی شرائط تسلیم کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس وقت جان کیری اور صہیونی حکام اپنی تمام تر توجہ مقبوضہ علاقوں میں بنائی گئی غیرقانونی یہودی بستیوں کو تسلیم کرانے اور اسرائیل کو یہودی ریاست کا تشخص دلوانے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینی اپنے وطن سے دستبردار ہو جائیں۔ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یہودیوں کی غیرقانونی بستیوں کو تسلیم کر لیں، بیت المقدس اسرائیل کے حوالے کر دیں اورارض وطن سے نکالے گئے لاکھوں باشندوں کے حق واپسی پر سودے بازی کر لیں۔ بدقسمتی سے الفتح کی قیادت بھی اسی سازش کا شکار ہو چکی ہے”۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرصلاح الدین بردویل کا کہنا تھا کہ ماضی میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کسی حد تک انفرادیت کے حامل تھے۔ صدر محمود عباس باربار یہ کہتے کہ انہیں اسرائیل سے مذاکرات کے حوالے سے عرب برادری کی حمایت حاصل ہے، لیکن اب کی بار صدر کو عرب ملکوں کی جانب سے کسی قسم کی آشیرباد حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
حماس رہ نما نے صہیونی ریاست اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان نام نہاد امن مذاکرات کو مسئلہ فلسطین کے خلاف کھلی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جان کیری کی نگرانی میں ہونے والے مذاکرات بھی اسی طرح بے نتیجہ رہیں گے جس طرح ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
