مقبوضہ یروشلم میں شہر کے قدیمی حصے کے داخلی راستے باب دمشق کی حدود میں "پراور بیغن منصوبے” کے خلاف ہونے والے مظاہرے پر اسرائیلی فوج کی جانب سے کاروائی کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے اور تین افراد حراست میں لے لئے گئے۔
واضح رہے کہ "پراور بیغن منصوبہ” ایک مجوزہ اسرائیلی منصوبہ ہے جس کے تحت وادی اردن کے علاقے سے تقریبا 40000 فلسطینی بدووں کو بے دخل کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے اور تقریبا 800000 دونم زمین پر اسرائیلی قبضہ ہوسکے گا۔ عرب شہری اس منصوبے کی مزاحمت کررہے ہیں۔
مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اس مظاہرے میں شرکت کرنے والے یروشلم اور 1948 کے مقبوضہ علاقوں کے شہریوں کو گھیرے میں لے کر ان پر حملہ کردیا۔ اس سے متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے۔
طبی عملے کے ایک رکن باسم زیدانی نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر حملہ کرتے ہوئے عمر اور مردوزن کے امتیاز کا خیال کئے بغیر اندھا دھند تشدد کیا جس کی زد میں آکر متعدد بچے، خواتین اور بزرگ زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے وہاں سے گزرنے والے عام راہ گیروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
