اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودیوں کو بسانے کے لیے مزید 1071 مکانات کی تعمیرکے نئے منصوبے پر غور شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی وزارت داخلہ کے حکام اور یہودی آباد کاری کی ذمہ داری خصوصی کمیٹی کا اجلاس آج ہو رہا ہے، جس میں مزید ایک ہزار اکہتر مکانات کی منظوری کا امکان ہے۔
اسرائیلی اخبار”یدیعوت احرونوت” نے اپنی ویب سائیٹ پر شائع ایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی حکومت مغربی کنارے کے قلب میں رام اللہ اور وادی اردن جیسے علاقوں میں مزید یہودیوں کو بسانے کےلیےکوشاں ہے۔ اس حوالے سے ایک ہزار اکہتر نئے مکانات کی تعمیر کی اسکیم تیاری کی گئی ہے جو آج بدھ کے روز "منصوبہ بندی وتعمیرات” کمیٹی کے اجلاس میں زیرغور لائی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق تعمیرات کمیٹی کے سامنے پیش کیے جانے والے منصوبے کے تحت "نووی فورات” کالونی میں 19 مکانات، رام اللہ میں قائم "چیلو” کالونی میں 17، "کوحاف یعقوب” میں 38،”جلجال الموج” میں 78 اور "مودیعین” کالونی میں 732 مکانات کی تعمیر کی تجویز شامل کی گئی ہے۔
صہیونی اخبارکی رپورٹ کےمطابق منصوبہ بندی و تعمیرات کمیٹی مغربی کنارے، بیت المقدس اور شمالی فلسطین کے بعض دیگرعلاقوں میں نئی تعمیرات کے منصوبوں پربھی غور کرے گی تاہم اخبار نے ان دوسرے منصوبوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
