بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں اور فلسطینی شہریوں کے درمیان تازہ کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بیت المقدس میں یہودی انتہا پسندوں نے فلسطینیوں کی املاک پرحملے کیے جس کے جواب میں مظلوم فلسطینی شہریوں نے بھی یہودیوں کی پٹائی کی ہے۔غاصب یہودیوں کے حملوں میں فلسطینیوں کی متعدد گاڑیاں مکمل طورپر تباہ کردی گئی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یہودی آباد کاروں کے ڈنڈہ بردار گروپوں نے علی الصبح بیت المقدس میں فلسطینیوں کو راہ چلتے چھیڑنے کی کوشش کی۔ یہودیوں کی یہ چھیڑ چھاڑ صہیونی پولیس کی موجودگی میں کی گئی۔ پولیس نے یہودی آباد کاروں کو روکنے کے بجائے شکایت کنندگان کو برا بھلا کہا۔
پولیس کے رویے سے انتہا پسندوں کو مزید شہ ملی اورانہوں نے سر راہ کئی فلسطینیوں کو بری طرح مارا۔ ان کے پاس سے نقدی اور دیگر ضروری اشیاء بھی چھین لیں۔
"وادی حلوہ ۔ سلوان انفارمیشن سینٹر” کی رپورٹ کے مطابق بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے کئی شہری یہودی غنڈہ گردوں کے تشدد کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انتہا پسندوں نے فلسطینیوں کی گاڑیوں پر بھی پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور پتھر لگنے سے کئی راہ گیرزخمی ہوئے۔
ادھر ہیکل سلیمانی کے حوالے سے نکالی گئی ایک ریلی میں شریک یہودیوں نے بھی فلسطینی شہریوں پر پتھراؤ کیا۔ مشتعل یہودیوں نے فلسطینیوں کی کم سے کم تین گاڑیاں مکمل طورپر تباہ کردیں جبکہ متعدد کو جزوی طور پرنقصان پہنچا ہے۔
تفصیلات کےمطابق یہودی غنڈہ گردوں نے مسجد اقصیٰ کے باب الاسباط کے قریب فلسطینیوں کےقافلوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ راہ چلتی گاڑیوں کو روک کران میں سوار شہریوں کو زدو کوب کیا گیا اور تین گاڑیوں کو پتھراؤ کے ذریعے تباہ کردیا گیا۔
خیال رہے کہ فلسطینی شہریوں پرانتہا پسند یہودیوں کے تازہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب فلسطین سمیت دنیا بھرمیں پھیلے یہودی مسجد اقصیٰ کی جگہ "ہیکل سلیمانی” کی تعمیرکے حوالے سے خصوصی تقریبات منعقد کر رہے ہیں۔ ایسے مواقع پر بے گناہ فلسطینی شہری شرپسند یہودیوں کے انتقام کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
