مسلمانوں کے قبلہ اول کی جگہ یہودیوں کے مذعوم ہیکل سلیمانی کی تعمیر انتہا پسند یہودیوں کا سب سے بڑا مقصد حیات بن چکا ہے۔ اسی مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے جہاں شرپسند یہودیوں کے گروپ مسجد اقصیٰ کےخلاف سازشیں کر رہے ہیں، وہیں یہودیوں کی نئی نسل کی ہیکل کی تعمیر اور قبلہ اول کو(معاذ اللہ) شہید کرنے کے لیے ان کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔
مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم "الاقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ” نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں نے نئی نسل کو مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیرکے حوالے سے ذہنی طورپرتیار کرنے کی ایک نئی چال شروع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حال ہی میں انتہا پسند گروپوں کی جانب سے ایک مختصر دستاویزی فلم منظرعام پرآئی ہے جس میں کم سن یہودیوں کو ہیکل سلیمانی کے نمونوں کے کھلونے بنا کران سے کھیلتے دکھایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ دستاویز فلم ایک ایسے وقت میں منظرعام پرآئی ہے جب یہودی اپنے عقیدے کے مطابق مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تباہی کی یاد میں تقریبات منا رہے ہیں۔ یہ تقریبات آج منگل سے مقبوضہ بیت المقدس اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر شہروں میں منعقد ہو رہی ہیں۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق دستاویزی فلم میں یہودیوں کی نئی نسل کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ ٹیلوں پر بیٹھ کر رونے دھونے کے بجائے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے خود کو تیار کریں۔ اس فلم میں بچوں کو ایسے ہی کرتے بھی دکھا گیا ہے۔ کچھ یہودی بچے اپنے ہم عمرلڑکوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں رونے دھونےکے بجائے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن نے یہودی انتہا پسندوں کی تازہ سرگرمیوں کو قبلہ اول کے مستقبل کے لیے نہایت خطرناک قرار دے کرعالم اسلام سے مقدس مقام کے دفاع کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ عالم اسلام نے موجودہ حالات میں بیداری اورمذہبی احساس ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں قبلہ اول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ ان دنوں مسجد اقصیٰ دنوں انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے غیرمعمولی حملوں کا نشانہ بن ہوئی ہے۔ یہودی آباد کاروں کے علاوہ صہیونی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار بھی بڑی تعداد میں قبلہ اول میں داخل ہوتے مسلمانوں کے اس مقدس مقام کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
