فلسطین میں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فورسزمقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے ایک دائیں باز کا کردار ادا کر رہی ہے۔ عباس ملیشیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے رواں سال کے دوران پچھلے چھ ماہ میں اب تک مغربی کنارے اور دوسرے علاقوں میں دس فدائی حملے ناکام بنائے ہیں۔
ادھر اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان کوئی تصفیہ نہ ہونے اور امن مذاکرات کے مسلسل تعطل کے باعث صدر ابو مازن کے زیرکمانڈ فورسز اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ عباس ملیشیا کی جانب سے مزاحمت کاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے باوجود اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے مغربی کنارے میں اپنا نیٹ ورک مضبوط بنایا ہے۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ مغربی کنارے میں عباس ملیشیاں نے رواں سال میں اب تک دس فدائی حملے ناکام بنائے ہیں۔ ان میں سے بعض فدائی حملہ آوروں نے کارروائی کے لیے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں صہیونی فوجی تنصیبات کو ہدف بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اسرائیلی فوجی ذریعے کا کہنا ہے کہ چھ ماہ میں دس فدائی حملوں کو ناکام بنانا ایک بڑی کامیابی ہے لیکن مستقبل میں عباس ملیشیا کا یہ تعاون ختم ہونے کا قومی امکان ہے۔
اسرائیلی ریڈیو رپورٹ کے مطابق صدر محمود عباس مغربی کنارے میں کوئی موثر سیاسی اثرو رسوخ بھی قائم نہیں کرسکے ہیں بلکہ دن بہ دن رام اللہ اھارٹی کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھتے جا رہے ہیں۔ محمود عباس اور ان کی جماعت کی ناکامی مغربی کنارے میں حماس جیسے سخت گیر گروپوں کی کامیابی کا باعث بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے فلسطینی اتھارٹی اور رام اللہ حکومت کو جواب دہ تھی، لیکن اب تمام سیکیورٹی ادارے براہ راست صدر محمود عباس کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔ صدر محمود عباس کے منصب صدارت سے سبکدوش ہوتے ہی مغربی کنارے میں حالات مزید دگر گوں ہوسکتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
