انسانی حقوق کے ایک ادارے نے مصری حکام سے انسانی بنیادوں پر رفح بارڈر کھولنے اور پھنسے ہوئے ہزاروں مسافروں کی مشکلات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطینی سنٹر برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں غزہ میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے خاص طور پر رفح بارڈر کی بندش پر جو کہ گزشتہ سالوں کے دوران غزہ کے باسیوں اور باہر کی دنیا کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ رہ گیا تھا۔
سنٹر نے غزہ میں اسرائیلی حکام کی جانب سے پچھلے چھ سال کے لئے غزہ کے تمام اطراف کی کراسنگز کی بندش سے اجتماعی سزا اور محاصرے کی پالیسی کی وجہ سے پیش آنے والی مشکلات بیان کی ہیں۔
سنٹر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور اسرائیلی حکام پر تمام کراسنگز کھولنے، محاصرہ اٹھانے اور فلسطینی شہریوں کے خلاف جاری اجتماعی سزا کی پالیسی کو روکنے کے لئے اسرائیل پر دبائو ڈالے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
