مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی نے نابلس، طولکرم اور سلفیت سے تین نوجوانوں کو اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے ساتھ تعلق کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ فلسطین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ تعلق کے الزام میں ہی الخلیل کے ایک طالب علم کو تفتیش کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کی فورسز نے اسرائیلی قید میں موجود فلسطینی اسیر کے گھر پر لگاتار تیسری مرتبہ حملہ کرکے توڑ پھوڑ بھی کی ہے۔ تفصیل کے مطابق طولکرم میں نام نہاد پری وینٹو فورسز نے سابق اسیر علی تقی، جن کی عمر عمر بتیس سال ہے۔ کے گھر پر چھاپہ مار کر توڑ پھوڑ کی۔ کفر عبوش کے رہائشی علی تقی اسرائیلی جیلوں میں پانچ سال قید رہ چکے ہیں۔
نابلس میں نام نہاد پری وینٹو فورسز نے عماد عمواد الشولی کو عصیرہ کے علاقے میں ان کے گھر سے اغوا کیا، انہیں اس سے پہلے بھی متعدد بار گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سلفیت میں عیسی شتات اتھارٹی فورسز کی جارحیت کا نشانہ بنے، وہ ابھی چند ہفتوں قبل ہی نجاح یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے فارغ ہوئے تھے۔
مھران عمر ابو خمیس کے گھر تر گزشتہ چند ہفتوں کے دوران لگاتار تیسری مرتبہ دھاو بولا گیا۔ اسرائیلی فوج ان کے والد کو کئی مرتبہ گرفتار کر چکی ہے۔
الخلیل میں یونیورسٹی کے طلبہ کے خلاف جارحیتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، پولی ٹیکنیک یونیورسٹی کے طالب علم کو سولہ جولائی کے روز پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ انہیں اسرائیلی جیل سے رہا ہوئے صرف تیس روز ہی گزرے ہیں۔
طالب علم جبر رجوب نے فلسطینی اتھارٹی کے طلبی کے آرڈرز ماننے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں رہ چکنے کے بعد اب فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں جانے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اپنی گرفتاری کی صورت میں وہ دوران حراست بھوک ہڑتال کردیں گے اور کچھ کھائیں، پئیں گے نہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
