فلسطین میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے اطلاع دی ہے کہ صہیونی جیل میں زیرحراست اردنی نژاد فلسطینی کمانڈرعبداللہ البرغوثی کی بھوک ہڑتال 70 روز میں داخل ہوگئی ہے۔ طویل بھوک ہڑتال کے باعث اسیر رہ نما کی حالت نازک بتائی جاتی ہے تاہم انہوں نے اپنی رہائی تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق اسیران کے حقوق کے سرگرم گروپ "کلب برائے اسیران فلسطین” نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسیرعبداللہ البرغوثی کے گردوں، معدے اور جگرمیں انفکیشن کے باعث صہیونی ڈاکٹروں نے انہیں پانی کی فراہم بھی روک دی ہے، جس کے باعث اسیر رہ نما کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی جیل حکام اسیربرغوثی کی نازک حالت کے باوجود انہیں جیل اسپتال کے بیڈ کے ساتھ باندھ کر رکھنا چاہتے ہیں۔
ادھر بھوک ہڑتالی کمانڈر عبداللہ برغوثی نے اسیران کلب کےایک نمائندے کے ذریعے قوم کے نام اپنا ایک پیغام بھی شائع کرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "میری بھوک ہڑتال اسی وقت ختم ہوسکتی ہے جب مجھے رہا کردیا جائے اور میں واپس اردن پہنچ جاؤں، بصورت دیگرمیں موت قبول کرلوں گا لیکن بھوک ہڑتال پرکوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا”۔ اسیر کا مزید کہنا ہے کہ وہ اردن کے ایک قومی اسیر ہیں، انہیں کسی مخصوص جماعت کا اسیر نہ کہاجائے۔ میں اپنے ملک کے لیے کسی قسم کی سیاسی پریشانی کا باعث نہیں بننا چاہتا ہوں۔
خیال رہے کہ اسیر عبداللہ البرغوثی اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے ملٹری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے اہم کمانڈر رہے ہیں۔ انہوں نے صہیونی فوج کے خلاف کئی بڑی اور کامیاب کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی اور انہیں انجام تک پہنچایا۔ کئی سال قبل صہیونی فوج نے برغوثی کو مقبوضہ مغربی کنارے سے حراست میں لیا۔ ان پرعدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے انہیں 67 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ پچھلے 13 سال سے برغوثی کے ساتھ اس کے والدین کی ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور 10 سال سے انہیں قید تنہائی میں ڈالا گیا ہے۔ صہیونی جیل حکام کے مظالم کے خلاف تنگ آکر دو ماہ قبل عبداللہ البرغوثی نے بھوک ہڑتال شروع کی تھی، جو اب بھی جاری ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
