اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے لیے 500 مکانات کی تعمیر کے دو الگ الگ منصوبوں کی منظوری دی ہے۔
عبرانی نیوز ویب سائیٹ” واللا” کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت کی جانب سے مغربی کنارے میں بنیامین کے مقام پرقائم یہودی کالونی "کفار ادومیم” میں 255 مکانات تعمیرکرنے کی منظوری دی ہے جبکہ دوسرے منصوبے کے تحت 230 مکانات مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں معون کے مقام پر تعمیر کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق”کفار ادومیم” کالونی میں ہونے والی توسیع اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، جس میں کم سے کم 400 یہودی خاندانوں کو لا کرآباد کیا جائے گا۔ اڑھائی سو مکانات کی تعمیر کےعلاوہ اس کالونی میں تجارتی مراکز، سڑکوں کی کشادگی اورایک سو بیس مزید خاندانوں کے لیے بھی گنجائش پیدا کرنا اور ان کی آباد کاری کے لیے نئی تعمیرات شروع کرنا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین میں یہودی کالونیوں میں توسیع اور غیرقانونی یہودی آباد کاری کا یہ عمل ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے جب امریکا فلسطین۔اسرائیل امن بات چیت کی بحالی کے لیے ایک نئے نقشہ راہ کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکا اور بعض دوسرے ملکوں کی جانب سے اسرائیل پرفلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری روکنےکے لیے دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے تاہم صہیونی حکومت کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھے ہوئے ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
