"وادی حلوہ۔ سلوان انفارمیشن سینٹر” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز یہودی آباد کاروں نے مشرقی بیت المقدس میں 53 سالہ سامی قالونی اور اس کے ایک دوسرے عزیز جمال ابو یوستیف کو مشرقی بیت المقدس میں الطور کےمقام پرتشدد کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کے مطابق یہودی آباد کاروں نے پہلے فلسطینی شہریوں سے مکان خالی کرانے کی دھمکیاں دیں، مکان خالی نہ کرنے پریہودیوں کا ڈنڈوں اور دستی ہتھیاروں سے مسلح جتھہ ان پر پل پڑا اور دونوں فلسطینی شہریوں کو ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
تشدد کا نشانہ بننے والے سامی قالونی نے سلوان انفارمیشن سینٹر کو بتایا کہ کئی یہودی آباد کاروں نے اچانک اس کے گھرپردھاوا بولا اور اسے گھرسے باہر نکال کر مارنا شروع کر دیا۔ اس کے دوسرے ساتھی جمال ابو ستیف کے سرپرآہنی لاٹھیوں سے ضربیں لگائی گئیں، جس سے اس کے سر، کندھوں اور بازؤں پربھی گہرے زخم آئے ہیں۔ جبکہ ایک ہاتھ کی کلائی ٹوٹ چکی ہے۔
ایک دوسری رپورٹ کے مطابق یہودی آباد کاروں کے ایک گروپ نے سامی قالونی فلسطینی شہری کی زمین پراپنے خیمے لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے یہ جگہ اس کے مالک سے خرید کرلی ہے۔ سامی نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ اس نے زمین کا کچھ حصہ یہودیوں کو فروخت کیا ہے۔ بعد ازاں معاملہ بگڑنے پرپولیس نے چھاپہ مارا اور قالونی کی زمین پرنصب خیمے قبضے میں لے لیے تاہم یہودی آباد کاروں کو چھوڑ دیا گیا اور اس کی جگہ اراضی کے مالک سامی کالونی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
