فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں قائم یہودی کالونیوں کے سیوریج سے نکلنے والے گندے پانی نے فلسطینیوں کی سیکڑوں ایکڑ اراضی پر پھیلی فصلیں تباہ کر دی ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بیت لحم کے مغرب میں حوسان ، وادی فوکین اور نحالین کی اراضی پر قائم یہودی کالونی”بیتار علیت” کی سیوریج لائنوں کا پانی فلسطینیوں کی زرعی زمینوں میں لا کر چھوڑا گیا ہے۔ ان سیوریج لائنوں سے خارج ہونے والی غلاظت اور گندے پانی نے کم سے کم ایک سو دونم کے زرعی رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ کردی ہیں، جس سے غریب فلسطینی کسانوں کا لاکھوں ڈالرز مالیت کا نقصان ہوا ہے۔
وادی فوکین اور دیگر علاقوں کے فلسطینی باشندوں کا کہنا ہے کہ صہیونیوں نے دانستہ طورپر سیوریج لائنیں ان کی زمینوں میں لا کر کھول دی ہیں تاکہ فلسطینی کسانوں کی فصلوں کو تباہ کیا جا سکے۔
مقامی فلسطینی کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہودی کالونی”بیتار علیت” کی سیوریج لائنوں کو” عین مضیق” کے مقام پر لا کرکھول دیا گیا ہے اور تمام لائنوں کا گندا پانی فلسطینیوں کی زرعی زمینوں میں جا رہا ہے۔ صہیونی کی اس سازش کے نتیجے میں فلسطینیوں کے ایک سو دونم رقبے پرپھیلے کم سے کم پچاس کھیتوں کو براہ راست نقصان پہنچا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
