اسرائیل کی بجلی فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی "اسرائیل الیکٹرک” نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں حکمران رام اللہ اتھارٹی سے اپنے 28 کروڑ ڈالرز کے واجبات فوری طور پر ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی الیکٹرک کمپنی کی جانب سے کنیسٹ کے اجلاس میں توانائی کے بحران کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر کمپنی کے عہدیداران نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام مقبوضہ مغربی کنارے کو مجموعی طورپر اب تک 900 ملین شیکل یعنی کم سے کم 280 ملین ڈالرز کی بجلی فراہم کی جا چکی ہے۔ جس کے واجبات تاحال فلسطینی اتھارٹی کے ذمہ واجب الاداء ہیں۔
صہیونی کنیسٹ کے اجلاس میں بھی رام اللہ اتھارٹی سے بجلی کے واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ ماضی میں بھی اسرائیل کی سرکاری الیکٹرک سپلائی کمپنی متعدد مرتبہ فلسطینی اتھارٹی کو مغربی کنارے کی بجلی منقطع کرنے کی دھمکی دے چکی ہے۔ صہیونی فرم کا دعویٰ ہے کہ اس نے رام اللہ انتظامیہ کے کہنے پرمغربی کنارے کے شہروں کو بجلی فراہم کر رکھی ہے لیکن فلسطینی حکومت ان کے واجبات ادا نہیں کر رہی ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ صہیونی حکومت اورالیکٹرک سپلائی کمپنی فلسطینی شہریوں کوبھاری نرخوں پربجلی تو فروخت کر رہے ہیں لیکن فلسطینیوں کو اپنے طورپر پاور پلانٹ لگانے اور بجلی پیدا کرنے کے کسی بھی منصوبے پرکام کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ صہیونی ریاست کی اس پالیسی کا مقصد فلسطینیوں کو اپنا باجگزار بنا کر رکھنا اور ان سے کروڑوں ڈالروصول کرنے کے لیے انہیں خود سے بجلی پیدا کرنے سے روکنا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
