مصرمیں سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی منتخب حکومت پر مسلح افواج کے شب خون مارنے کے بعد فلسطین اور مصرکے درمیان سرحد پربھی فوج کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ سرحد کے آر پار سامان خوردونوش کی منتقلی کے لیے بنائی گئی زیرزمین سرنگوں کی مسماری کا آپریشن بھی دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ جمعرات کے روز انہوں نے غزہ اور مصرکے درمیان سرحد پرمصری فوج کےٹینکوں اور ٹرکوں کو غیرمعمولی طریقے سے نقل وحرکت کرتے دیکھا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق غزہ اور مصرکے درمیان چودہ کلو میٹر کی سرحد پر گشت کرنے والے مصری فوج کے مسلح اہلکاروں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
درایں اثناء غزہ اورمصرکے درمیان بنائی گئی زیرزمین سرنگوں کو بھی مصر کی جانب سے بند کردیا گیا ہے۔ ایک اخباری ذریعے نےاطلاع دی ہے کہ مصری فوج نے سرحد پراپنے علاقے میں کئی سرنگیں مسمار بھی کی ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی شہرغزہ کی پٹی کے محصور شہری ان سرنگوں کو اشیائے خوردونوش اور ایندھن کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سابق معزول صدر محمد مرسی کے دورحکومت میں غزہ کے شہریوں کو کافی حد تک ریلیف فراہم کیا گیا تھا، تاہم ان کا تختہ الٹے جانے کے بعد مصری فوج نے ایک مرتبہ پھر سرحد کے آر پارآمد و رفت میں سختی پیدا کردی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
