مسجد اقصیٰ کے تحفظ اور اس کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم "الاقصیٰ فاؤنڈیشن اینڈ ٹرسٹ” کے میڈیا کوآرڈینیٹر محمود ابو العطاء نے فلسطینی خبر رساں ادارے”صفا” سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ بدھ کو علی الصباح صہیونی انٹیلی جنس کے کوئی پچاس اہلکار تین الگ الگ گروپوں کی شکل میں مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے سے داخل ہوئے۔ اس موقع پر صہیونی پولیس نے سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے ہوئے تھے اور کسی فلسطینی کو مراکشی دروازے کی طرف جانے کی اجازت نہیں تھی۔
ابو العطاء کا کہنا تھا کہ یہودی انٹیلی جنس کے اہلکار قبلہ اول کے اہم ترین مقامات مسجد قبلی، قدیم مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ میں کئی گھنٹے گھومتے رہے اور ان کا تقدس پامال کرتے رہے۔
انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس اہلکاروں کی آمد سے قبل پچیس کےقریب یہودی آباد کاروں کا ایک ٹولہ بھی مسجد کی مشرقی سمت سے داخل ہوا اور ایک گھنٹے تک وہاں غل غپاڑہ کرتا رہا۔ ابو عطاء کا کہنا تھا کہ جب یہودی خفیہ اداروں کے اہلکار مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تو اس وقت مسجد میں موجود سیکڑوں طلباء طالبات کے حفظ قرآن کریم کی کلاسیں چل رہی تھیں۔ صہیونی پولیس نے انہیں مسجد سے نکال کرادھر ادھر منتشر کردیا اور ناپاک یہودیوں کو کھلی چھٹی دے دی۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کے عہدیدار نے صہیونی انٹیلی جنس کے اہلکاروں اور شرپسند یہودیوں کے قبلہ اول میں داخلے اور اس کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہودی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے اشتعال انگیز دوروں کا مقصد رمضان المبارک کے دوران فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روکنے کی سازش تیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی یہودی غنڈہ گردی سے خوف زدہ نہیں ہوں گے اور ماضی کے برعکس بڑی تعداد میں مسجد اقصیٰ سے اپنا تعلق مزید مضبوط کریں گے۔
خیال رہے کہ منگل کے روز بھی کوئی تیس کے قریب صہیونی انٹیلی جنس کے اہلکار قبلہ اول میں داخل ہوکر دیر تک اس کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے رہے۔ بعد ازاں انہوں نے قبلہ اول کی لائیربری میں رکھی گئی اسلامی کتابوں کی تلاشی لی اور تمام کتابیں الماریوں سے نکال کر فرش پرپھینک دیں اور وہاں پرموجود ایک کمپیوٹر بھی قبضےمیں لے لیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
