انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم”عرب و عالمی انسانی حقوق” نے القدس کو یہودیانے کی صہیونی ریشہ دوانیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان سازشوں کے سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری محض مذمتی بیانات سے نہیں روکی جاسکتی، اس کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تنظیم کے لندن میں قائم صدر دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی سےفائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی اسلامی شناخت کو مٹانےکی خطرناک مہمات جاری رکھی ہوئی ہیں۔
بیان میں پوری عالمی برادری بالخصوص عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلامی تہذیب وتمدن کا گہوارہ قرار دیے جانے والے شہر بیت المقدس کے اسلامی تشخص کو بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ بیان میں اسلامی دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ چھپن آزاد اسلامی ممالک کیا بیت المقدس کو یہود گردی سے نہیں بچا سکتے۔ اسرائیل بیت المقدس میں ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں یہودیوں کے لیے ہرطرح کی سہولت کا سامان مہیا کر رہا ہے۔ اس کا اصل مقصد شہر کی اسلامی شناخت اور اس کے تشخص کو ختم کرکے بیت المقدس کو یہودیوں کا تاریخی اور تہذیبی مرکز ثابت کرنا ہے۔
انسانی حقوق گروپ نے انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے روز مرہ کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ پر بولے جانے والے دھاوں کی بھی شدید مذمت کی۔ بیان میں بتایا گیا کہ یہودیوں کے ایک انتہا پسند گروپ کے کئی ارکان نے پیر کے روز خفیہ طورپر مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے سے داخلے کی کوشش کی۔ اس طرح کی کارروائیاں اشتعال انگیز ہیں اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی مجرمانہ سازش کا حصہ ہیں
۔
عرب انسانی حقوق گروپ نے عالمی برادری کی فلسطین بارے مجرمانہ غفلت پرمبنی پالیسی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ عالمی اداروں میں آئے روز فلسطینیوں کی حمایت اور بیت المقدس کے تحفظ کے لیے قراردادیں منظور کی جاتی ہیں لیکن کسی قرارداد پرعمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ یہ مسلمانوں بالخصوص فلسطینیوں کو دھوکہ دینے کی ایک سنگین سازش ہے۔ عالمی برادری اپنے قول وفعل میں تضاد کے بجائے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد بھی کروائے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
