ایک فلسطینی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل ہر سال فلسطینیوں کو مقبوضہ علاقوں میں داخلے اور اسرائیلی منڈیوں میں کام کرنے کی اجازت دینے کے لئے جاری کردہ پرمٹس اور شناختی کارڈز کی بدولت 40 ملین شیکل [11 ملین ڈالر] کما لیتا ہے۔
بیت لحم کی اپلائیڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یروشلم نے ہفتے کے روز ایک تحقیق میں یہ انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی شہری ایک مقناطیسی کارڈ کے حصول کے لئے 100 شیکل فیس دینا پڑتی ہے۔
ادارے کی تحقیق کے مطابق مقبوضہ علاقوں اور یہودی بستیوں میں کام کرنے والے فلسطینی مزدوروں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ ان تمام مزدوروں کو 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں کام کرنے کے لئے پرمٹ فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔
مقناطیسی کارڈ کا ہونا مقبوضہ علاقوں میں داخلے کے لئے ناگزیر ہے، اگرچہ کارڈ کا ہونا اس بات کی گارنٹی نہیں دیتا کہ اس شہری کو پرمٹ دے دیا جائیگا مگر یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جو لوگ پرمٹ کے لئے درخواست دیتے ہیں وہ سیکیورٹی رسک نہیں سمجھے جاتے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
