فلسطین میں "جریان خون” (ھیمو فیلیا) کے مرض میں مبتلا ساڑھے چار سو مریضوں کو علاج معالجے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ جریان خون کے علاج کے لیے سرگرم تنظیم کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ فلسطین میں اس موذی مرض کے علاج کا کوئی خاطر خواہ بندو بست نہیں ہے۔
جہاں کہیں اس مرض کے علاج کی سہولت میسر بھی ہے تو وہ اتنا مہنگا ہے کہ مریض اس کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ صہیونی ریاست کی جانب سے مریضوں کے دوسرے ملک میں جانے پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جس کے باعث مریضوں کی حالت غیر ہوتی جا رہی ہے۔
ھیمو فیلیا تنظیم کے چیئرمین جاد الطویل نے رام اللہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جریان خون کا مرض تمام فلسطینی شہروں میں پھیلا ہوا ہے۔ ایسے مریضوں کے مسلسل علاج کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ موجودہ حالات میں فلسطینی اسپتالوں میں اس مرض کی ادویات ہیں اور نہ ہی علاج کی کوئی دوسری سہولت میسر ہے۔
الطویل کا کہنا تھا کہ جریان خون کا ایک ایسا مریض جس کا وزن 50 کلو گرام یا اس سے زائد ہوکو ماہانہ 25 مرتبہ دوائی لینا ہوتی ہے جس پر اڑھائی ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کے خاتمے اور مریضوں کی معاونت کے لیے عالمی سطح پر قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ جریان خون کے مریضوں کو کے لیے فوری طورپر سوشل میڈیکل سیکیورٹی کی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فلسطین میں ھیموفیلیا کے مریضوں کے علاج کی کوئی کامیاب کوشش نہ کی گئی تو یہ مرض نہ صرف بڑھتا رہے گا بلکہ یہ کئی مریضوں کے لیے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ الطویل نے عالمی امدادی اداروں سے ھیمو فیلیا کا شکار فلسطینیوں کی فوری مدد اوران کے علاج کی سہولت فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
