اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون نے کہا ہے کہ عالمی سطح پرفلسطینیوں اور ان کے حامیوں کی صہیونی ریاست کو”غیرآئینی” قرار دینے کی سرگرمیاں نہایت خطرناک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو سب سے بڑا چیلنج فلسطینیوں کی مسلح مزاحمت ہے، اس سے نمٹنے کے سوا اسرائیل کے پاس کوئی چارہ نہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر یعلون کا کہنا تھا کہ "پچھلے کچھ عرصے میں اسرائیل میں امن کی جو فضاء دیکھی جا رہی تھی وہ پڑوسی ملکوں میں شروع ہونے والی بغاتوں کے بعد ختم ہوچکی ہے۔ اس وقت ملک کو سب سے بڑا خطرہ عالمی سطح پر فلسطینیوں کی وہ مہم ہے جس میں صہیونی ریاست کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ جوہری ایران، شام میں جاری بغاوت اور فلسطینیوں کی مسلح جدو جہد صہیونی ریاست کے لیے تباہی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں”۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنا دراصل صہیونی ریاست کے خلاف جنگ کی راہ تلاش کرنا ہے۔ اب تک فلسطینی اسرائیل کو ختم کرنے کے لیے روایتی طاقت کا استعمال کرتے رہے ہیں لیکن اب انہوں نے عالمی سطح پر اسرائیلی وجود کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھانا شروع کردیے ہیں۔
اندرون ملک سے درپیش چیلنجز پر بات کرتے ہوئے صہیونی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس۔ اور اسلامی جہاد جیسی مسلح تنظیموں سے اسرائیل کو سخت خطرہ ہے۔ ترکی۔ اسرائیل تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسٹر یعلون کا کہنا تھا کہ ہمیں خود کو کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہیے۔ ہم چاہے کچھ بھی کرلیں ترکی کے ساتھ سنہ 2004ء سے پہلے والے تزویراتی تعلقات اب بحال نہیں ہو سکتے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
