عرب تنظیم برائے انسانی حقوق نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کے ساتھ اپنا سیکیورٹی تعاون ختم کردے اور یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں کو روکنے اور فلسطینی زمینوں زمین پر قبضے کو روکنے کی کوششوں میں تیزی لائے۔
برطانیہ میں قائم اس تنظیم کا کہنا ہے کہ قلقلیہ کے نزدیک واقع قصبے جیوس میں نسلی تعصب کی مظہر دیوار کی تعمیر سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ اس قصبے میں دیوار کی تعمیر سے وسیع زرعی زمین تباہ ہوگئی اور تقریبا چار ہزار زیتون کے درخت اکھاڑ دئیے گئے تھے۔
تنظیم نے جمعرات کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا کہ دیہاتیوں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے متشدد کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ اس دیوار کے خلاف کسی بھی کاروائی میں شامل ہر شخص کو گرفتار کرلیتے ہیں۔ اس کے علاوہ فلسطینی سیکیورٹی ادارے بھی اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر ان حراستی مہمات میں حصہ لیتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی خفیہ ایجنسی اور قومی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے 23 جون کو جیوس گائوں پر دھاوا بول دیا اور بچوں سمیت چار فلسطینی گرفتار کرلیا۔ ان گرفتارشدگان سے قلقلیہ میں خفیہ ایجنسی کے مرکزی دفتر میں تفتیش کی گئی اور انہیں منگل کے روز گائوں میں مظاہروں اور جلسوں کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج نے کچھ دن قبل بھی گائوں پر دھاوا بول دیا اور متعدد نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔
تنظیم نے فلسطینی شہریوں کے اس نسلی تعصب پر مبنی دیوار کے خلاف احتجاج کے حق پر زور دیا اور کہا کہ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکنوں کی حراست ان جنیوا کنویشنز کی خلاف ورزی ہے جو کہ آبادی کی حفاظت کے لئے موجود ہیں اور ان کو قابض حکام کے خلاف تمام ہر طرح سے مزاحمت کا حق دیتے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
