اسرائیلی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ فلسطینی مقبوضہ مغربی کنارے اور شمالی فلسطین کے درمیان زیرزمین خفیہ سرنگوں کے راستے آمد و رفت جاری رکھنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ صہیونی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حال ہی میں فوجی اہلکاروں نے مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ اور شمالی فلسطین کے الطیبہ قصبے کو ملانے والی ایک سرنگ کا پتہ چلایا گیا جسے فلسطینی مزاحمت کاراپنی سرگرمیوں کے استعمال کرتے رہے ہیں۔
اسرائیلی اخبار”معاریف” کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی مزاحمت کار اپنی سہولت کی خاطر بعض” کمزور مقامات” سے شمالی فلسطین میں داخلے کے لیے راستے تلاش کر لیتےہیں۔ اب تک فلسطینی مزاحمت کارسطح زمین پر لگائی گئی خار دار تاروں کو کاٹ کراپنے لیے راستے بنا لیتے تھے لیکن اب غزہ کی سرحد پربنائی گئی سرنگوں کی طرز پرمغربی کنارے اور شمالی فلسطین کے درمیان سرنگیں بنانے کا تجربہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ اس کی تازہ مثال قلقیلیہ اور طیبہ شہروں کے درمیان زیرزمین سرنگ کا انکشاف ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ زیرزمین سرنگوں کی تیاری کا اقدام اسرائیل کے سیکیورٹی حلقوں اور فوج کے سخت تشویش کا باعث ہے۔غزہ کے ایک محدود علاقوں میں ان سرنگوں کی نشاندہی ممکن ہے لیکن مغربی کنارے اور فلسطین کے دوسرے شہروں کے درمیان سرنگیں کھودی جانے لگیں تو ان کی تلاش صہیونی فوج کے لیے مشکل ہوجائے گی۔ رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں کھودی گئی سرنگوں کو نہ صرف مزدوروں کو اسرائیل میں داخل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ ان سرنگوں کی مدد سے اسرائیل کے خلاف دیگر سرگرمیاں اور اسمگلنگ بھی ہوتی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
