مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں میں فلسطینیوں کی مکانات کی بلا جواز مسماری کے خلاف کئی شہروں میں فلسطینیوں نے بطور احتجاج پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی۔ احتجاج کے دوران تمام تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند رہے اور منہدم شدہ مکان کے ملبے پر احتجاجی کیمپ لگایا گیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کےمطابق چند روز قبل صہیونی فوج نے شمالی فلسطین کی وادی عارہ میں ایک شہری سعید ابو شرقیہ کا مکان منہدم کردیا تھا جس کے خلاف وادی عارہ، بئر سبع اور کئی دوسرے شہروں میں مکمل پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ خیال رہے کہ وادی عارہ پر اسرائیل نے سنہ 1948ء کو صہیونی ریاست کے قیام دوران قبضہ کرلیا تھا۔ سعید ابو شرقیہ کا منہدم شدہ مکان اس نے چوالیس سال قبل تعمیر کیا تھا۔ صہیونی حکام نے اس کی تعمیر کو غیرقانونی قرار دے کراس سے مکان خالی کرایا اور بعد ازاں بلڈوزروں کی مدد سے گرادیا۔
مکانات مسماری کی صہیونی دہشت گردی کے خلاف بئر سبع میں ہزاروں فلسطینیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شمالی فلسطین کی مرکزی شاہراہ پر ٹائر جلا کر اسے کئی گھنٹے تک بند کیے رکھا۔ فلسطینیوں کی جانب سے احتجاج کی کال پرنہ صرف تاجروں نے ہڑتال کی بلکہ تمام تعلیمی ادارے بنک، صحت کے مراکز بند رہے بلکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔
وادی عارہ میں اراضی اور املاک کے دفاع کی ذمہ دار کمیٹی کے چیئرمین احمد ملحم نے میڈیا کو بتایا کہ علاقے میں فلسطینیوں کے برسوں سے تعمیر مکانات کی مسماری صہیونی حکام کا معمول بن چکا ہے۔ فلسطینی عوام صہیونی حکومت اور فوج کے اس ظلم و بربریت سے سخت تنگ آچکے ہیں، جس کے باعث وہ احتجاج پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی عمائدین اورصہیونی کنیسٹ میں عرب اراکین نے سعید ابو شرقیہ کے مکان کی مسماری کے بعد فوری بعد ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مقامی شہریوں کے پاس پرامن احتجاج کے سوا اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ اجلاس میں مسمار شدہ مکان کے ملبے پر احتجاجی کیمپ لگایا گیا اور جمعہ کے روز اسی جگہ نماز جمعہ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
