احرار، مرکز برائے مطالعہ اسیران و حقوق انسانی نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل فاٹو بسنودہ کے بیان کے بعد فلسطینی حقوق کے حصول کے لیے عالمی عدالت سے رجوع کیا جائے۔ بسنودہ نے بیان دیا تھا کہ 29 نومبر 2011 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب فلسطین کو تسلیم کیے جانے کے بعد فلسطین کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) سے رجوع کا حق حاصل ہوگیا ہے۔
احرار سنٹر فار پرزنرز سٹڈیز اینڈ ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے کہا ہے کہ بسنودہ جیسی شخصیت کی جانب سےدیا گیا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس پر فلسطینی اتھارٹی کو فوری حرکت میں آنا چاہیے اور اسرائیل کے محاسبے پر مشتمل کسی معاہدے پر دستخط کے لیے تیزی کرنا ہوگی۔ اس معاہدے میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف جرائم، ان کی اراضی پر قبضہ اور اسیران کے قتل پر اس کا محاسبہ ضروری ہے۔
فواد الخفش نے کہا کہ اسرائیل نہیں چاہتا کہ فلسطین عالمی اداروں سے رجوع کرے اور وہ اس معاملے کے حوالے سے خوفزدہ ہے اور فلسطینی اتھارٹی پر عالمی فوجداری عدالت کا رخ نہ کرنے کا دباؤ ڈال رہا ہے۔
یاد رہے کہ بنسوڈہ نے ”عرب خطے میں عبوری اور عالمی انصاف: روم معاہدہ اور عالمی فوجداری انصاف” کے عنوان سے ایک عالمی کانفرنس میں یہ بیان دیا تھا۔ اس کانفرنس کا اہتمام عبوری انصاف اکیڈمی، جمہوری انتقال کے بین الممالک مرکز اور تیونس کے ”بغیر انصاف امن نہیں” نامی تنظیم نے کیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
