اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں ان دنوں ملک کے سب سے بڑے دینی پیشوا کی کرپشن کہانیاں عروج پر ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل میں مذہبی اعتبار سے سب سے اعلیٰ مرتبے پر فائز”ربی” کرپشن اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔ وہ لوگوں سے براہ راست رشوت لیتے ہیں اور چور بازاری کےمرتکب ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق”خاخام الاکبر” (پیشوائے اعظم) یونا میسغر پر کرپشن کے الزامات کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب پولیس نے دس گھنٹے تک مذہبی رہ نما سے پوچھ گچھ کی۔ پولیس کے سوالات کا محور رشوت خوری، دھوکہ دہی، کرپشن اور منی لانڈرنگ جیسے موضوعات تھے، جن سے متعلق جناب "شیخ” سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔
ریڈیو رپورٹ کے مطابق زیرحراست مذہبی پیشوا کو ضمانت پر رہا کرنے کے بارے میں پولیس نے حامی بھری ہے تاہم پولیس نے کہا ہے کہ یہودی ربی پانچ دن تک گھرمیں نظر بند رہیں گے اور کسی جانب سفر پر پابندی ہوگی۔
خیال رہے کہ اسرائیل میں سیاست دانوں،فوجی جرنیلوں، بیوروکریٹس اور مذہبی رہ نماؤں سب پرکسی نہ کسی طرح کرپشن کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ان میں موساد کے سابق چیف موشے کتساب، سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ اور کئی دوسرے وزراء بھی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش ہوچکے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
