امریکی انتظامیہ نے اپنے لے پالک اسرائیل کے لیے اس کی سالانہ فوجی امداد میں پانچ فی صد کمی کرتے ہوئے سالانہ 175 ملین ڈالرز کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ امریکا کی اسرائیل کے لیے سالانہ فوجی امداد کا حجم تین اعشاریہ ایک ارب ڈالرز ہے۔
اسرائیل کے عبرانی روزنامہ”معاریف” کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے پہلے ہی اسرائیلی حکومت کو فوجی امداد میں کمی کے فیصلے کے بارے میں آگاہ کردیا گیا تھا تاہم کم کی جانےوالی امداد کی مقدار نہیں بتائی گئی تھی۔ اسرائیلی حکومت کو خدشہ تھا کہ امریکا کم از کم 500 ملین ڈالرز کی فوجی امداد کم کردے گا، جو صہیونی ریاست کے لیے پریشانی کا موجب بنے گی۔ تاہم اسرائیلی حکومت کے خدشات کے برعکس امریکا نے محض ایک سو پچہتر ملین ڈالرز کی کمی کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کی طرف سے اسرائیل کے لیے مختص فوجی امداد میں کمی کا فیصلہ امریکا کو درپیش مالیات بحران کا نتیجہ ہے۔
معاریف کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے دفاعی امداد میں کمی کا اسرائیل کے محکمہ دفاع پرمنفی اثر پڑے گا۔ اسرائیل امریکی امداد سے لڑاکا طیارے”ایف 35″ کی خریداری کا ارادہ رکھتا تھا۔ امریکا اور اسرائیل کے درمیان سنہ 2016ء تک ایسے 19 طیاروں کی اسرائیل کو حوالگی کا ایک معاہدہ بھی ہوچکا ہے، لیکن اب اس فوجی امداد میں کمی کے باعث اس معاہدے پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی خریداری پران کی کل لاگت کا 75 فی صد امریکا ہی سے ملنے والی امداد سے چند سال کی قسطوں پر ادا کرنا تھا۔
خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کے لیےدفاعی امداد میں کمی کے فیصلے کے باوجود کئی دوسرے دفاعی منصوبوں میں امداد بڑھائے جانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ وائیٹ ہاؤس کی درخواست پر سنہ 2014ء کے لیے اسرائیل کو آئرن ڈوم کی خریداری کی مد میں 220 ملین ڈالرز کی امداد دینے کی سفارش کی ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان نے اس رقم کی منظوری دے دی ہے تاہم سینٹ سے منظوری لینا باقی ہے۔ اسی طرح دفاعی نوعیت کے دیگر سامان کی خریداری میں مدد فراہم کرنے کے لیے وائیٹ ہاؤس نے 98.8 ملین ڈالرز کی سفارش کی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے اسے بڑھا کر170 ملین ڈالرز کرنے کی سفارش کی ہے تاہم سینٹ سے اس کی منظوری بھی تاحال نہیں ہو سکی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
