فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیر کمانڈ سیکیورٹی فورسز اور اسرائیلی فوج کے درمیان باہمی تعاون کے تحت آپریشن جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل میں کئی مقامات پر اسرائیلی فوج اور عباس ملیشیا کی ڈیفنس فورسز نے مشترکہ گشت کیا، جس پر فلسطینی شہریوں میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ جمعرات کی شام صہیونی فوج اورعباس ملیشیا کے اہلکاروں کی بڑی تعداد مغربی الخلیل میں امریش، الصرہ، المجد، مراح البقار اور دیر العسل میں دن بھر گشت کرتی رہی۔
عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ مغربی الخلیل کے انہی علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں نے کئی فلسطینی شہریوں کو اپنے مکانات خالی کرانے کے نوٹس بھی دیے ہیں۔ فلسطینی سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں اسرائیلی فوج کی غنڈہ گردی پرعوامی حلقوں میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ مغربی کنارے کے شہریوں نے عباس ملیشیا کی اسرائیلی فوج کے ساتھ معاونت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صہیونی دشمن فوج کی آلہ کار اور محافظ فورس قرار دیا ہے۔ عباس ملیشیا فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے دشمن کی فوج کے ساتھ مل کر آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔
خیال رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں سنہ 2007ء میں الفتح کی حکومت کے قیام کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام سیکیورٹی اداروں نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فوج اور عباس ملیشیا مل کر محب وطن شہریوں بالخصوص اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے کارکنوں کا تعاقب کر رہے ہیں
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
