فلسطینی رکن قانون ساز اسمبلی سمیرہ الحلایقہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اپنی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر اپنے سیاسی حریفوں کی مسلسل حراستوں اور طلبی نامے بھجوا کر مفاہمتی معاہدوں اور قومی فریڈم کمیٹی کی سفارشات کو نظر انداز کررہی ہے۔
حلایقہ نے ہفتہ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ جو کچھ اس وقت ہورہا ہے وہ حماس اور فتح کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات میں طے ہونے والی باتوں سے کافی مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے مفاہمتی معاہدوں کی اس وقت خلاف ورزی کی ہے کہ جب اس نے ایک نئی غیر آئینی حکومت کا قیام عمل میں لایا اور مقامی اور بلدیاتی انتخابات کا اہتمام کیا۔
رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ایسی سرگرمیاں فلسطینی گروہوں میں تقسیم کو مزید بڑھا دیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی مفاہمت کبھی بھی حکومتیں بنانے اور الیکشن کا اہتمام کروانے سے نہیں حاصل کی جاسکے گی جبکہ اس کے لئے سیاسی حراستوں کی فائل ہمیشہ کے لئے بند کرنا ہوگی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ "وہ لوگ جو کہ تحریک حماس کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور میڈیا کے ذریعے سے فلسطینی مفاہمت کے قیام اور تقسیم کے خاتمے کی خواہشات کا اظہار کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو کہ روزانہ کی بنیاد پر اس کو ختم کرنے اور اس کے ارادے کو توڑنے کی خاطر اس کے خلاف سیاسی حراستوں کی مہمات اور طلبی ناموں کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔
اسی طرح کے ایک واقعہ میں فلسطینی سیکیورٹی فورسز نے رام اللہ، نابلس، بیت لحم اور قلقیہ میں چھاپوں کے دوران حماس سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو حراست میں لے لیا اور پانچ اور افراد کو تفتیش کے لئے طلب کرلیا۔
اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی کی فوجی عدالت نے حماس سے تعلق رکھنے والے دو اسیران کے مقدمے کی سماعت ملتوی کردی۔
حماس سے تعلق رکھنے والے اسیر یوسف البرغوثی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بغیر کسی جرم کے حراست پر احتجاج کرتے ہوئے دس دن قبل شروع کی جانے والی بھوک ہڑتال کو جاری رکھیں گے۔
مغربی کنارے میں قائم فیملی کمیٹی برائے فلسطینی اسیران نے ہفتے کے روز ایک اعدادوشمار پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں نے مغربی کنارے کے مختلف شہروں سے اس ماہ کے آغاز سے اب تک 55 فلسطینی شہریوں کو حراست میں لیا ہے اور 63 فلسطینیوں کے طلبی نوٹس جاری کئے ہیں۔
کمیٹی نے بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی ادارے اپنی روزانہ کی حراستی مہمات میں اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے اسیران، یونیورسٹی کے طلباء اور شہداء اور اسیران کے رشتہ داروں پر توجہ دیتی ہے۔ کمیٹی کے مطابق ان گرفتار شدگان میں زیادہ تعداد حماس سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہوتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مئی میں قاہرہ میں ہونے والی مفاہمتی ملاقات کے بعد سے مغربی کنارے میں سیاسی گرفتاریوں اور طلبی ناموں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
