فلسطینی انسانی حقوق مرکز کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے مغربی ساحل پر اسرائیلی بحریہ کی جانب سے فلسطینی ماہی گیروں پر حملے بڑھتے جارہے ہیں اور گزشتہ تین ماہ کے دوران صہیونی اہلکاروں نے ان ماہی گیروں پر 30 حملے کیے ہیں۔
مرکز کی رپورٹ میں یکم مارچ سے لیکر 31 مئی تک فلسطینی ماہی گیروں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس عرصے میں اسرائیلی بحریہ نے 29 مرتبہ ماہی گیروں پر فائرنگ کی جس سے ایک ماہی گیر زخمی ہوگیا۔ اسی طرح دو مرتبہ اسرائیلی بحریہ کی کشتیوں نے فلسطینیوں کی کشتیوں کا پیچھا بھی کیا اور ان کی کشتیاں اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا۔
رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی پٹی کے مچھلی کی صعنت کو ہدف بنا رکھا ہے اور غزہ کے ماہی گیروں کو تین میل سمندری حدود سے آگے جانے سے روک رکھا ہے۔ حالانکہ گزشتہ سال 21 نومبر کو مصر کی ثالثی میں اسرائیل حماس کے ساتھ غزہ کے ساحل کی مسافت چھ میل تک بڑھانے کا مطالبہ کر چکا ہے لیکن، ساحلی حدود کو چھ میل تک توسیع کے کچھ روز بعد ہی اسرائیل اسے دوبارہ تین میل تک لے آیا تھا۔ اکیس مارچ تا 25 مئی اسرائیل نے سمندری حدود تین میل تک رکھیں اور اس کے بعد اسے دوبارہ چھ میل کردیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ماہی گیروں پرکیے گئے حملوں میں سے 85 فیصد اس وقت کیے گئے جب فلسطینی اپنی طے شدہ حدود کے اندر رہ کر ہی مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
