اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل میں اس وقت سکیورٹی انتظامات سخت کردیے جب شہر کے جنوبی علاقے میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے ایک یہودی کی گاڑی پر حملے کی خبریں سامنے آئیں۔ صہیونی اہلکاروں کی بڑی تعداد نے الخلیل کی شاہراہوں پر گشت شروع کردیا ہے۔
اسرائیلی روزنامے ”یدیعوت احرونوت” کے آن لائن ایڈیشن میں کہا گیا کہ صہیونی فوج نے الخلیل کے قصبوں اور دیہاتوں کے داخلی راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کرلی ہیں، فلسطینیوں کی گزرنے والی گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جارہی ہے۔ الخلیل کے نواحی گاؤں خرسا میں اسرائیلی فوج خاص طور پر یہودی گاڑی پر حملہ کرنے والوں کو تلاش کر رہی ہے۔ اس سے قبل دو فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے ایک یہودی کی گاڑی کو نذر آتش کرنے کی خبر آئی تھی تاہم اس کارروائی میں کسی یہودی کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے خرسا گاؤں کی قریبی یہودی بستی ”نیجاھوت” کے کے قریب متعدد چیک پوسٹیں قائم کرلی ہیں۔ یہاں پر فلسطینی گاڑیوں کو روک کر ان کے ڈرائیورز کو حراست میں لیا جارہا ہے۔ ادھر صہیونی اہلکاروں نےدورا ٹاؤن پر بھی دھاوا بول کر شہریوں کو زدوکوب کرنا شروع کردیا جس کے بعد فلسطینی نوجوانوں اور صہیونی سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کی بھی اطلاعات آئی ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
