الخلیل میں یطہ قصبے کے مشرق میں واقع ام العرایس گائوں کی زمین کے مالکوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے اعلیٰ عدلیہ کے احکام کے باوجود ان کی زمینیں واپس نہیں کی۔
یطہ میں یہودی بستیوں کے خلاف قائم کمیٹی کے معاون محمد عواد کا کہنا ہے کہ 120 دونم قبضہ شدہ زمین کے تین مالکوں نے منگل کے روز اپنی زمین کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہودی آبادکاروں نے یہ زمین 13 سال قبل بزور بازو چھین لی تھی اور یہاں پر عارضی گھر قائم کرلئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ نے ایک ہفتہ قبل چھینی گئی 288 دونم زمین میں سے 120 دونم زمین کو واپس کرنے کا حکم دے دیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ 12000 شیکل جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
زمین کے مالکوں میں سے ایک اسماعیل عواد کا کہنا ہے کہ ” ہم اپنی زمین کا اس وقت تک دفاع کرتے رہیں گے جب تک کہ ہم اس کو اس کی اصلی شکل میں لوٹا نہیں دیتے۔”
انہوں نے بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالت کے حکم کے مطابق زمین کی واپسی تک ان کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
