نابلس شہر میں مزار یوسف پر سینکڑوں یہودی آبادکاروں کے دھاوے کے بعد فلسطینی نوجوانوں اور یہودی آبادکاروں کی حفاظت کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے درمیان تصادم کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج نے آدھی رات کے بعد نابلس کے مختلف مضافات میں دھاوا بول دیا۔
اسرائیلی فوج کے آںسو گیس فائر کرنے کے بعد عسکر اور بلاطہ مہاجر کیمپوں میں تصادم کا سلسلہ شروع ہوگیا جس سے ایک کمسن سمیت متعدد رہائشی زخمی ہوگئے۔ اس واقعہ میں کسی گرفتاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ مزار یوسف میں پانچ سو سے زائد یہودی آبادکار گھس آئے اور اسرائیلی فوج کی بھاری نفری کی حفاظت میں مذہبی رسومات ادا کیں اور عبادات کیں۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے پیر کو علی الصبح جنین ضلع کے مختلف قصبوں پر دھاوا بول دیا جہاں انہوں کئی گھروں پر دھاوا بولا اور تلاشی لی۔
پیر کو علی الصبح اسرائیلی فوجی دس اسرائیلی فوجی گاڑیوں میں سوار ہو کر جبع گائوں میں داخلت ہوگئے اور دو گھروں پر دھاوا بول دیا اور گھروں کے مالکوں سے پوچھ گچھ کی۔
سیکیورٹی اور مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے گائوں پر دھاوا بول دیا اور یحییٰ کمال فخری اور عمارہ عونی فشقسہ کے گھروں پر حملہ کردیا اور ان میں توڑ پھوڑ کی اور رہائشیوں سے تفتیش کی۔
اسرائیلی فوجیوں نے جنین کے جنوب میں سلت الظاہر اور فنداقومیہ قصبات پر دھاوا بول دیا اور سلت الظاہر سیکنڈری سکول کے دروازے پر پوزیشن سنبھال لی۔ اس واقعہ میں کسی حراست کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
