اسرائیلی حکام مقبوضہ مشرقی القدس کے رہائشی فلسطینیوں کے خلاف گھیرا تنگ کرتے جا رہے ہیں، آئے روز کے مظالم اور زیادتیوں کے شکار فلسطینیوں کو شہر چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ایک ایسے ہی واقعے میں اسرائیلی مجسٹریٹی عدالت نے القدس کے ایک مکین کو 13 ہزار ڈالرز جرمانہ کردیا ہے۔
جرمانے کی وجہ کوئی جرم کرنا نہیں بلکہ اپنے دادا کے مکان کی حفاظت کی کوشش کرنا ہے۔ وادی حلوہ اسٹڈی سنٹر کے مطابق 35 سالہ داود صیام کو 45 ہزار شیکل (13 ہزار امریکی ڈالرز) اس یہودی آباد کو دینے کا کہا گیا ہے جس نے اس کے دادا کے گھر پر قبضے کی کوشش کی تھی۔ یہودی نےصیام کے خلاف خود پر حملے کا مقدمہ درج کروایا ہوا تھا۔
صیام نے بتایا کہ یہ معاملہ 2009ء کا ہے جب چار یہودی آباد کاروں نے سلوان کالونی میں انکے دادا کے مکان پر حملہ کردیا، اس وقت مکان میں کوئی بھی موجود نہیں تھا، میں جیسے ہی گھر پہنچا تو ان آباد کاروں میں سے ایک نے مجھ پر پستول تان لی، ہمارے درمیان تلخ کلامی شروع ہوگئی۔ پھر یہ آباد کار گھر چھوڑ کر چلے گئے اور کچھ دیر بعد اسرائیلی پولیس اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے آکر مجھے گرفتار کرلیا، مجھے 24 گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا تو کردیا گیا کہ عدالت نےمجھے 1500 شکیل جرمانہ بھرنے اور 150 گھنٹے عوام کی خدمت اور چھ ماہ کی انتظامی حراست کی سزا دی، یہ حراست تین سال طویل ہوگئی۔
صیام نے بتایا کہ اس سے پہلے دی جانے والی سزا عام لوگوں کے حق کے معاوضے کے طور پر تھی اور اس مرتبہ یہودی آبادکاروں کی جانب سے میرے خلاف مقدمہ کرائے جانے پر اس کے حق پر ڈاکہ مارنے کی سزا سنائی گئی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلطین
