فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی جارحیتوں پر نظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی فوجی کی فائرنگ سے مغربی کنارے اور غزہ میں پچاس فلسطینی زخمی ہوگئے۔
ادھر یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کی زیر ملکیت ایک ہزار سے زائد درختوں کو اکھاڑ پھینکا ہے جس سے فلسطینیوں کو بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔ صہیونی جارحانہ کارروائیوں میں القدس میں گھروں کو منہدم کرنے کی وجہ سے اس بابرکت شہر کے تیرہ رہائشیوں کو ہجرت پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
اقوام متحدہ کے آفس فار دی کوآرڈینیشن آف ہیومینیٹیرین اسسٹنس (OCHA) نے اپنی ہفتہ وار رپورٹ، جس میں 28 مئی سے 03 جون تک کی اسرائیلی جارحانہ کارروائیوں کا احاطہ کیا گیا ہے، میں بتایا گیا کہ زخمی ہونے والوں میں 30 اٹھارہ سال سے کم عمر فلسطینی بچے بھی شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق اٹھارہ حملوں میں فلسطینیوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گیلو یہودی بستی میں کیے گئے حملے میں بھی فلسطینیوں کا بھاری نقصان ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس ہفتے گزشتہ ہفتے کی نسبت اسرائیلی حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس ہفتے فلسطینیوں کی جانب سے کسی اسرائیلی کو زخمی نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہودی آباد کاروں نے 1220 زیتون کے درختوں کو جلایا یا جڑ سے اکھاڑ پھینکا، ان یہودیوں نے القدس اور اریحا میں سولہ فلسطینی کاروں کو پنکچر کیا اور ان پر متعصبانہ عبارتیں لکھ دیں۔ متشدد یہودیوں نے اس ہفتے عیسائیوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور ایک گرجا گھر کی دیواروں پر انتہائی اشتعال انگیز عبارتیں لکھیں۔ اسی طرح رام اللہ کے مغربی گاؤں بیتللو میں بھی مختلف گھروں اور کاروں پر ایسی ہی عبارتیں دیکھنے کو ملی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی انتظامیہ نے مشرقی القدس اور کیٹگری ”سی” کے علاقوں میں بغیر اجازت تعمیر کے بہانے چار فلسطینی گھروں کو مسمار کیا جس سے تیرہ افراد بے گھر ہوکر ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی کسانوں پر فائرنگ کی ہے۔ فائرنگ کے وقت یہ کسان
غزہ اور مقبوضہ فلسطین کی سرحد کے درمیانی 300 میٹر کے علاقے میں موجود تھے۔
اس ہفتے کے دوران اسرائیلی فوج نے متعدد بار غزہ میں بھی دراندازی کی، ادھر کے غزہ کے مغربی ساحل پر اسرائیلی بحریہ کی جانب سے فلسطینی ماہی گیروں پر فائرنگ کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
