مقبوضہ بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ نے مشرقی القدس کو مغربی کنارے کی یہودی بستی معالی ادومیم سے ملانے کے لیے نئی شاہراہ کے منصوبے پر کام کا آغاز کردیا ہے۔ اس منصوبے کو مشرقی القدس اور مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کی تاریخ کا سب سے خطرناک منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
صہیونی حکام کا یہ منصوبہ یہودی آبادکاری پر عالمی اور ملکی تنقید کے باوجود شروع کیا گیا ہے، عالمی برادری ”ای ون” منصوبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مغربی کنارے کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا قرار دے چکی ہے۔ اسرائیلی بلدیہ کے رکن بیبی آلاو کا کہنا ہے کہ بلدیہ کی پلاننگ کمیٹی نے اس منصوبے کی منظوری بدھ کے روز دی تھی تاہم ابھی اس منصوبے کے لیے شہر کی سطح کے تمام حکام سے منظوری لینا باقی ہے۔
واضح رہے کہ ”ای ون” کے نام سے معروف علاقے میں تعمیر کیا جانے والا یہ راستہ مقبوضہ مشرقی القدس کی یہودی بستیوں اور یہودی بستی معالی ادومیم کو جغرافیائی طور پر آپس میں ملا دے گا۔ منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے تنظیم ”پیس ناؤ” سے تعل قرکھنے والے حاغیت اوفران کا کہنا تھا کہ نئی سڑک صرف 100 سے 200 میٹر طویل ہے لیکن اس کا سیاسی اثر انتہائی گہرا ہے کیونکہ یہ مشرقی القدس کو یہودی بستی معالی ادومیم سے جوڑ دیگی جس کے بعد فلسطینیوں کے لیے ”ای۔ون” کے علاقے کو عبور کرنا بھی ممکن ہو جائے گا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے گزشتہ سال 29 نومبر کو فلسطینیوں کی جانب سے اقوام متحدہ میں غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے رد عمل میں 2005ء سے منجمد کیا گیا ”ای۔ون” منصوبے پر دوبارہ کام کے آغاز کا اعلان کردیا تھا۔ سن 2005ء میں اسرائیل نے امریکی دباؤ پر اس منصوبے پر کام روکا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
